ہے کہ مرد اور عورت ایک ہو جائیں۔ اُسی نے مفاسد ظاہر ہونے کے وقت اجازت دی ہے کہ اگر آرام اس میں متصور ہو کہ کرم
خوردہ دانت یا سڑے ہوئے عضو یا ٹوٹی ہوئی ہڈی کی طرح موذی کو علیحدہ کر دیا جائے تو اسی طرح کاربند ہوکر اپنے تئیں فوق الطاقت آفت سے بچالیں کیونکہ جس جوڑ سے وہ فوائد مترتب نہیں ہو
سکتے کہ جو اس جوڑ کی علت غائی ہیں بلکہ ان کی ضد پیدا ہوتی ہے تو وہ جوڑ درحقیقت جوڑ نہیں ہے۔
اورؔ بعض آریہ عذر معقول سے عاجز آکر یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں حلالہ
کی رسم نیوگ سے مشابہ ہے یعنی جو مسلمان اپنی جورو کو طلاق دے وہ اپنی جورو کو اپنے پر حلال کرنے کے لئے دوسرے سے ایک رات ہم بستر کراتا ہے تب آپ اس کو اپنے نکاح میں لے آتا ہے۔
سو ہم اس افترا کا جواب بجز لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین اور کیا دے سکتے ہیں۔ ناظرین پر واضح رہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں حلالہ کی رسم تھی لیکن اسلام نے اس ناپاک رسم کو قطعاً حرام کر دیا
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے لوگوں پر *** بھیجی ہے جو حلالہ کے پابند ہوں چنانچہ ابن عمر سے مروی ہے کہ حلالہ زنا میں داخل ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ حلالہ کرنے کرانے والے سنگسار کئے جاویں۔ اگر کوئی مطلقہ سے نکاح کرے تو نکاح تب درست ہوگا کہ جب واقعی طور پر اس کو اپنی جورو بنا لے اور اگر دل میں یہ خیال ہوکہ وہ اس حیلہ
کے لئے اس کو جورو بناتا ہے کہ تا اس کی طلاق کے بعد دوسرے پر حلال ہو جائے تو ایسا نکاح ہرگز درست نہیں اور ایسا نکاح کرنے والا اس عورت سے زنا کرتا ہے اور جو ایسے فعل کی ترغیب
دے وہ اس سے زنا کرواتا ہے۔ غرض حلالہ علمائے اسلام کے اتفاق سے حرام ہے اور اَئمہ اور علماء سلف جیسے حضرت قتادہ۔ عطا اور امام حسن اور ابراہیم۔ نخعی۔ اور حسن بصری اور مجاہد اور
شعبی اور سعید بن مسیب اور امام مالک۔ لیث۔ ثوری۔ امام احمد بن حنبل وغیرہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اور سب محققین علماء اس کی حرمت کے قائل ہیں اور شریعت اسلام اور نیز لغت عرب
میں بھی زوج اس کو کہتے ہیں کہ کسی عورت کو فی الحقیقت اپنی جورو بنانے کے لئے تمام حقوق کو مدنظر رکھ کر اپنے نکاح میں لاوے اور نکاح کا معاہدہ حقیقی اور واقعی ہو نہ کہ کسی دوسرے
کے لئے ایک حیلہ ہو اور قرآن شریف میں جو آیا ہے 3 ۱ اس کے یہی معنے ہیں کہ جیسے دنیا میں