ہے۔ وہ اپنی کتاب تدبیر بقاء نسل میں بعینہ یہی قول لکھتے ہیں جو اوپر نقل ہو چکا۔ اور صفحہ ۴۶ میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹروں
کی تحقیقات سے یہ ثابت ہے کہ نو یا آٹھ یا پانچ یا چھ برس کی لڑکیوں کو حیض آیا۔ یہ کتاب بھی میرے پاس موجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔ ان کتابوں میں کئی اور ڈاکٹروں کا نام لے کر حوالہ دیا گیا ہے
اور چونکہ یہ تحقیقاتیں بہت مشہور ہیں اور کسی دانا پر مخفی نہیں اس لئے زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ اور حضرت عائشہ کا نو سالہ ہونا تو صرف بے سروپا اقوال میں آیا ہے۔ کسی حدیث یا قرآن
سے ثابت نہیں لیکن ڈاکٹر واہ صاحب کا ایک چشم دید قصہ لینسٹ نمبر ۱۵ مطبوعہ اپریل ۱۸۸۱ء میں اس طرح لکھا ہے کہ انہوں نے ایسی عورت کو جنایا جس کو ایک برس کی عمر سے حیض آنے
لگا تھا اور آٹھویں برس حاملہ ہوئی اور آٹھ۸ برس دس۱۰ مہینہ کی عمر میں لڑکا پیدا ہوا۔
اب اے نادان آریو کسی کنوئیں میں پڑکر ڈوب مرو کہ تحقیق کی رو سے تمہارا ہریک الزام جھوٹا نکلا۔ یہی
سزا ایسے لوگوں کی ہے جو ہمیشہ بخل اور تعصب سے بات کرتے ہیں کبھی ساری
عمر میں بھی ان کو خیال نہیں آتا کہ کسی سچائی کو بھی قبول کرلیں۔
اے غافلو۔ کیا تم ہمیشہ زندہ رہو گے
کیا کبھی تم پوچھے
نہیں جاؤ گے۔ کیوں حد سے بڑھتے ہو
کچھ اس مالک کا خوف کرو جو کبھی
شریر کو بے سزا
نہیں چھوڑے گا۔
تَمَّت