کہ پہلے ان کتابوں کا صحیح صحیح حوالہ دے جو مقبول ہوں اور پھر اعتراض کرے ورنہ ناحق کسی مقدس کی بے عزتی کر
کے اپنی ناپاکی فطرت کی ظاہر نہ کرے۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ کیوں خدا تعالیٰ کے مقدس اور پیارے بندوں پر ایسے ایسے حرام زادے جو سفلہ طبع دشمن ہیں جھوٹے الزام لگاتے ہیں تو بجز اس کے
اور کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ تا نور کے مقابل پر ظلمت کا خبیث مادہ بھی ظاہر ہو جاوے کیونکہ دنیا میں اضداد اضداد سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر رات کا اندھیرا نہ
ہوتا تو دن کی روشنی کی خوبی ظاہر نہ ہو سکتی۔ پس خدا تعالیٰ اس طور سے پلید روحوں کو مقابل پر لاکر پاک روح کی پاکیزگی زیادہ صفائی سےؔ کھول دیتا ہے۔
پانچواں اعتراض۔ بھلا اس مسئلہ
پر بھی کبھی توجہ فرمائی ہے کہ حضرت رسول خدا محمدؐ صاحب کا اپنی بیوی حضرت عائشہ نو سالہ سے ہم بستر ہونا کیا اولاد پیدا کرنے کی نیت سے تھا۔
اما الجواب۔ یہ اعتراض محض جہالت
کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ کاش اگر نادان معترض پہلے کسی محقق ڈاکٹر یا طبیب سے پوچھ لیتا تو اس اعتراض کرنے کے وقت بجز اس کے کسی اور نتیجہ کی توقع نہ رکھتا کہ ہریک حقیقت شناس کی
نظر میں نادان اور احمق ثابت ہوگا۔ ڈاکٹر مون صاحب جو علوم طبعی اور طبابت کے ماہر اور انگریزوں میں بہت مشہور محقق ہیں وہ لکھتے ہیں کہ گرم ملکوں میں عورتیں آٹھ یا نو برس کی عمر میں
شادی کے لائق ہو جاتی ہیں۔ کتاب موجود ہے تم بھی اسی جگہ ہو اگر طلب حق ہے تو آکر دیکھ لو۔ اور حال میں ایک ڈاکٹر صاحب جنہوں نے کتاب معدن الحکمت تالیف کی
نوٹ۔ یہ وہی آریہ ہیں جن
کے باپ دادے اسلامی بادشاہت کے زمانہ میں اسلام کے امراء کے آگے ہاتھ جوڑتے اور پاؤں پر گرتے تھے کہ حضور ہم وفادار رعیت ہیں اب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دیتے ہیں سو
ہماری گورنمنٹ انگریزی کے بھی وہ تہ دل سے خیر خواہ نہیں ہو سکتے اسلام کے بادشاہوں نے ان کو وزارت کے عہدے بھی دیدئیے تھے پھر جب ان سے ان کا یہ سلوک ہے جو ان کے ایسے محسن
تھے تو پھر ہماری گورنمنٹ کی سخت غلطی ہوگی جو ان احسان فراموشوں پر کوئی زیادہ بھروسہ رکھے گورنمنٹ کو چاہئے کہ اس تجربہ سے فائدہ اٹھاوے جو اسلامی سلطنت کو ان لوگوں کی فطرت
کی نسبت ہو چکا ہے۔ منہ