اور بد ذاتی ہے جو واقعات صحیحہ کو چھوڑ کر افترا کئے جائیں قرآن موجود بخاری مسلم موجود ہے نکالو کہاں سے یہ بات
نکلتی ہے کہ آنحضرت زینب کے نکاح کو خود اپنے لئے چاہتے تھے۔ کیاؔ آپ نے زید کوکہا تھا کہ تو طلاق دیدے تا میرے نکاح میں آوے بلکہ آپ تو بار بار طلاق دینے سے ہمدردی کے طور پر منع
کرتے تھے۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو ہم نے قرآن اور حدیث میں سے لکھی ہیں۔ لیکن اگر کوئی اس کے برخلاف مدعی ہے تو ہماری کتب موصوفہ سے اپنے دعوے کو ثابت کرے۔ ورنہ بے ایمان اور خیانت
پیشہ ہے۔ اور یہ بات جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نکاح پڑھ دیا۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ نکاح میری مرضی کے موافق ہے اور میں نے ہی چاہا ہے کہ ایسا ہوتا مومنوں پر حرج باقی نہ
رہے۔
یہ معنے تو نہیں کہ اب زینب کے خلاف مرضی اس پر قبضہ کرلو ظاہر ہے کہ نکاح پڑھنے والے کا یہ منصب تو نہیں ہوتا کہ کسی عورت کو اس کے خلاف مرضی کے مرد کے حوالہ کر
دیوے بلکہ وہ تو نکاح پڑھنے میں ان کی مرضی کا تابع ہوتا ہے سو خدا تعالیٰ کا نکاح یہی ہے کہ زینب کے دل کو اس طرف جھکا دیا اور آپ کو فرما دیا کہ ایسا کرنا ہوگا تا امت پر حرج نہ رہے۔ اب
بھی اگر کوئی باز نہ آوے تو ہمیں قرآن اور بخاری اور مسلم سے اپنے دعوے کا ثبوت دکھلاوے کیونکہ ہمارے دین کا تمام مدار قرآن شریف پر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث قرآن کی
مفسر ہے اور جو قول ان دونوں کے مخالف ہو وہ مردود اور شیطانی قول ہے یوں تو تہمت لگانا سہل ہے۔ مثلاً اگر کسی آریہ کو کوئی کہے کہ تیری والدہ کا تیرے والد سے اصل نکاح نہیں ہوا۔ جبراً اس
کو پکڑ لائے تھے اور اس پر کوئی اطمینان بخش ثبوت نہ دے اور مخالفانہ ثبوت کو قبول نہ کرے۔ تو ایسے بدذات کا کیا علاج ہے ایسا ہی وہ شخص بھی اس سے کچھ کم بدذات نہیں جو مقدس اور
راستبازوں پر بے ثبوت تہمت لگاتا ہے۔ ایماندار آدمی کا یہ شیوہ ہونا چاہئے