اس ذ ّ لت سے تنگ آگئی تھی جو اس کا خاوند ایک غلام آزاد کردہ ہے وہ اس غلام سے آزاد ہونے کے بعد اس شہنشاہ کو قبول نہ
کرے جس کے پاؤں پر دنیا کے بادشاہ گرتے تھے بلکہ دیکھ کر رعب کو برداشت نہیں کر سکتے تھے چنانچہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ملک کا بادشاہ گرفتار ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے
روبرو پیش کیا گیا اور وہ ڈر کر بید کی طرح کانپتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس قدر خوف مت کر۔ میں کیا ہوں ایک بڑھیا کا بیٹا ہوں جو باسی گوشت کھایا کرتی تھی سو ایسا خاوند جو دنیا کا بھی بادشاہ اور
آخرت کا بھی بادشاہ ہو وہ اگر فخر کی جگہ نہیں تو اور کون ہو سکتا ہے۔ اور زینب وہ تھی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے زید کے ساتھ آپ شادی کی تھی اور آپ کی دست پروردہ تھی اور
ایک یتیم لڑکی آپ کے عزیزوں میں سے تھی جس کو آپ نے پالا تھا وہ دیکھتی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں عزت کے تخت پر بیٹھی ہیں اور میں ایک غلام کی جورو ہوں اسی وجہ
سے دن رات تکرار رہتا تھا۔ اور قرآن شریف بیان فرماتا ہے کہ آنحضرت اس رشتہ سے طبعاً نفرت رکھتے تھے اور روز کی لڑائی دیکھ کر جانتے تھے کہ اس کا انجام ایک دن طلاق ہے چونکہ یہ آیتیں
پہلے سے وارد ہو چکی تھیں کہ منہ بولا بیٹا دراصل بیٹا نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے آنحضرت کی فراست اس بات کو جانتی تھی کہ اگر زید نے طلاق دے دی تو غالباً خدا تعالیٰ مجھے اس رشتہ کے لئے
حکم کرے گا تا لوگوں کے لئے نمونہ قائم کرے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور یہ قصہ قرآن شریف میں بعینہٖ درج ہے۔
پھر پلید طبع لوگوں نے جن کی بدذاتی ہمیشہ افترا کرنے کی خواہش رکھتی ہے
خلاف واقعہ یہ باتیں بنائیں کہ آنحضرت خود ز ینب کے خواہشمند ہوئے حالانکہ ز ینب کچھ دور سے نہیں تھی کوئی ایسی عورت نہیں تھی جس کو آنحضرت نے کبھی نہ دیکھا ہو یہ زینب وہی تو تھی
جو آنحضرت کے گھر میں آپ کی آنکھوں کے آگے جوان ہوئی اور آپ نے خود نہ کسی اور نے اس کا نکاح اپنے غلام آزاد کردہ سے کر دیا اور یہ نکاح اس کو اور اس کے بھائی کو اوائل میں نامنظور
تھا اور آپ نے بہت کوشش کی یہاں تک کہ وہ راضی ہوگئی۔ ناراضگی کی یہی وجہ تھی کہ زید غلام آزاد کردہ تھا۔ پھر یہ کس قدر بے ایمانی