بھی نہیں بن سکتا۔
اور دوسری جز جس پر اعتراض کی بنیاد رکھی گئی ہے یہ ہے کہ زینب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و
سلم کو قبول نہیں کیا تھا صرف زبردستی خدا تعالیٰ نے حکم دے دیا۔ اس کے جواب میں ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ ایک نہایت بد ذاتی کا افتراء ہے جس کا ہماری کتابوں میں نام و نشان نہیں۔ اگر سچے
ہیں تو قرآن یا حدیث میں سے دکھلاویں کیسی بے ایمان قوم ہے کہ جھوٹ بولنے سے شرم نہیں کرتی۔ اگر افتراء نہیں تو ہمیں بتلا ویں کہاں لکھا ہے کیا قرآن شریف میں یا بخاری اور مسلم میں۔ قرآن
شریف کے بعد بالاستقلال وثوق کے لائق ہماری دو ہی کتابیں ہیں ایک بخاری اور ایک مسلم*۔ سو قرآن یا بخاری اور مسلم سے اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ نکاح زینب کے خلاف مرضی پڑھا گیا تھا۔ ظاہر
ہے کہ جس حالت میں زینب زید سے جو آنحضرت کا غلام آزاد تھا راضی نہ تھی اور اسی بناء پر زید نے تنگ آکر طلاق دی تھی اور زینب نے خود آنحضرت کے گھر میں ہی پرورش پائی تھی اور
آنحضرت کے اقارب میں سے اور ممنون منت تھی تو زینب کے لئے اس سے بہتر اور کونسی مراد اور کونسی فخر کی جگہ تھی کہ غلام کی قید سے نکل کر اس شاہ عالم کے نکاح میں آوے جو خدا کا
پیغمبر اور خاتم الانبیاء اور ظاہری بادشاہت اور ملک داری میں بھی دنیا کے تمام بادشاہوں کا سرتاج تھا جس کے رعب سے قیصر اور کسریٰ کانپتے تھے۔ دیکھو تمہارے ہندوستان کے راجوں نے محض
فخر حاصل کرنے کے لئے مغلیہ خاندان کے بادشاہوں کو باوجود ہندو ہونے کے لڑکیاں دیں اور آپ درخواستیں دے کر اورتمنا کر کے اس سعادت کو حاصل کیا اور اپنے مذہبی قوانین کی بھی کچھ
رعایت نہ رکھی بلکہ اپنے گھر وں میں ان لڑکیوں کو قرآن شریف پڑھایا اور اسلام کا طریق سکھایا اور مسلمان بنا کر بھیجا حالانکہ یہ تمام بادشاہ اس عالیشان جناب کے آگے ہیچ تھے جس کے آگے دنیا
کے بادشاہ جھکے ہوئے تھے کیاؔ کوئی عقل قبول کر سکتی ہے کہ ایک ایسی عورت جو
*نوٹ۔ صحیح مسلم اس شرط سے وثوق کے لائق ہے کہ جب قرآن یا بخاری سے مخالف نہ ہو اور بخاری
میں صرف ایک شرط ہے کہ قرآن کے احکام اور نصوص صریحہ بینہ سے مخالف نہ ہو اور دوسری کتب حدیث صرف اس صورت میں قبول کے لائق ہوں گی کہ قرآن اور بخاری اور مسلم کی متفق علیہ
حدیث سے مخالف نہ ہوں۔ منہ