شاید تم آئندہ باز آجاؤ۔
اب ہم ان آریوں کے اس ُ پر افترا اعتراض کی بیخ کنی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو انہوں نے زینب
کے نکاح کی نسبت تراشا ہے۔ ان مفتری لوگوں نے اعتراض کی بنا دو باتیں ٹھہرائی ہیں (ا) یہ کہ متبنّٰی اگر اپنی جورو کو طلاق دے دیوے تو متبنّٰی کرنے والے کو اس عورت سے نکاح جائز نہیں
(۲) یہ کہ زینب آنحضرت کے نکاح سے ناراض تھی تو گویا آنحضرت نے زینب کے معقول عذر پر یہ بہانہ گھڑا کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے سو ہم ان دو باتوں کا ذیل میں جواب دیتے ہیں۔
امر
اول کا جواب۔ یہ ہے کہ جو لوگ متبنّٰیکرتے ہیں ان کا یہ دعویٰ سراسر لغو اور باطل ہے کہ وہ حقیقت میں بیٹا ہو جاتا ہے اور بیٹوں کے تمام احکام اس کے متعلق ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قانون قدرت اس
بیہودہ دعویٰ کو رد کرتا ہے اس لئے کہ جس کا نطفہ ہوتا ہے اسی کے اعضاء میں سے بچہ کے اعضاء حصہ لیتے ہیں اسی کے قویٰ کے مشابہ اس کے قویٰ ہوتے ہیں اور اگر وہ انگریزوں کی طرح
سفید
پس جس حالت میں ہندوؤں کی عورتیں ایسی آزاد ہیں کہ خاوند مثلاً نوکر چاکر ہے کوئی مفقود الخبر اور گمشدہ نہیں خط روز آتے ہیں مقام شہر کا نام معلوم ہے اگر چاہیں تو آسانی سے وہاں جا
سکتے ہیں مگر پھر بھی وید نے یہ تعلیم نہیں دی کہ ضرورت شہوت کے وقت میں خاوندوں کے پاس چلی جائیں۔ خاص کر جب خاوند ایک جگہ نوکر اور بڑے معزز عہدہ پر ہو مثلاً ڈپٹی کمشنر ہو تو
روپیہ کی بھی کمی نہیں مگر پھر بھی وید نے زناکاری کی رغبت دی اس سے معلوم ہوا کہ وید کے رشیوں کو زنا بہت ہی پیارا تھا تبھی تو حلال وجہ کے جماع کی پرواہ نہ رکھ کر نیوگ کو ہی پسند کیا
بہرحال جس حالت میں وید کی آگیا کے بموجب اس صورت میں بھی ایک ہندو عورت نیوگ کرا سکتی ہے۔ جبکہ ایک جگہ خاوند نوکر ہو اور وید نے یہ حکم نہیں دیا کہ عورت خاوند کے پاس چلی جاوے
بلکہ نیوگ کرانے کی اجازتؔ دے دی ہے تو پھر جب کوئی آریہ جیل خانہ میں قید ہو تو اس صورت میں تو ہندو عورت کو نیوگ کے لئے اعلیٰ درجہ کا حق پیدا ہوگا۔ کیونکہ وہ جیل خانہ میں نہیں جا
سکتی تھی۔