سوالؔ چوتھا۔ اب دیکھئے کہ لفظ زنا کس موقعہ کے لئے موزوں ہے رسول خدا حضرت محمد صاحب کا اپنے متبنّٰیبیٹے کی بہو
مسماۃ زینب کی خواہش کرنا اور اس کے معقول عذر پر یہ بہانہ کرنا کہ خدا تعالیٰ نے عرش پر اپنی زبان مبارک سے میرا اور تیرا نکاح پڑھ دیا ہے۔ الجواب اے لالہ صاحبان آپ لوگوں نے ہمارے سید
و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر جو تمام پرہیزگاروں اور پاک دلوں کے سردار ہیں زنا کی تہمت لگائی اگرچہ تعزیرات ہند دفعہ ۲۹۸ کی رو سے ایسے شخصوں کی توہین کے مقدمہ میں جو
ایک عظیم الشان پیشوا کی نسبت کی گئی ہے۔ سزا تو یہ ہے کہ کم سے کم عدالت سے ڈاڑھی اور موچھ منڈوا کر برس برس کی قید ہو اور پیچھے کھترانیوں اور مصرانیوں کو بجز نیوگ کرانے کے اور
کوئی صورت کارروائی کے لئے باقی نہ رہے لیکن بالفعل ہم اس امید سے برداشت کرتے ہیں کہؔ تا
اور کیا وجہ کہ نکاح کی نوعیت تمام معاہدوں سے مختلف ہے۔ عیسیٰ نے زنا کی شرط سے طلاق
کی اجازت دی مگر آخر اجازت تو دیدی۔ نکاح ملاپ کے لئے ہے اس لئے نہیں کہ ہم دائمی تردد اور نزاع کے باعث سے پریشان خاطر رہیں۔ خلاصہ تقریر جان ملٹن۔ اگر مرد کسی دوسری جگہ چلا
جائے اور اپنے گھر پر حاضر نہ ہو تو آریوں کی عورتوں کو چاہئے کہ میعاد مقررہ کے بعد نیوگ یعنی کسی دوسرے سے ہم بستر ہوکر اولاد جن لیں کسی کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں اور وید آگیا
موافق بیان پنڈت دیانند کے یہ ہے۔ وواہت استری جووواہت پتی دھرم کے ارتھ پردیش میں گیاؔ ہو تو آٹھ برش۔ ودیا اور کیرتی کے لئے گیا ہو تو چھ۶ اور دھن ادی کامنا کے لئے گیا ہو تو تین برش تک باٹ
دیکھے پشچات نیوگ کر کے سنتان اوتپتی کر لے۔ جب وداہت پتی آوے تب نیوکت پتی چھوٹ جاوے۔