رنگ رکھتا ہے تو یہ بھی اس سفیدی سے حصہ لیتا ہے اگر وہ حبشی ہے تو اس کو بھی اس سیاہی کا بخرہ ملتا ہے اگر وہ آتشک زدہ ہے تو یہ بیچارہ بھی اسی بلا میں پھنس جاتا ہے۔ غرض جس کا حقیقت میں نطفہ ہے اسی کے آثار بچہ میں ظاہر ہوتے ہیں جیسی گیہوں سے گیہوں پیدا ہوتی ہے اور چنے سے چنا نکلتا ہے پس اس صورت میں ایک کے نطفہ کو اس کے غیر کا بیٹا قرار دینا واقعات صحیحہ کے مخالف ہے۔ ظاہر ہے کہ صرف منہ کے دعویٰ سے واقعات حقیقیہ بدل نہیں سکتے مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں نے سم الفار کے ایک ٹکڑہ کو طباشیر کا ٹکڑہ سمجھ لیا تو وہ اس کے کہنے سے طباشیر نہیں ہو جائے گا اور اگر وہ اس وہم کی بناء پر اسے کھائے گا تو ضرور مرے گا جس حالت میں خدا نے زید کو بکر کے نطفہ سے پیدا کر کے بکر کا بیٹا بنا دیا تو پھر کسی انسان کی فضول گوئی سے وہ خالد کا بیٹا نہیں بن سکتا اور اگر بکر اور خالد ایک مکان میںؔ اکٹھے بیٹھے ہوں اور اس وقت حکم حاکم پہنچے کہ زید جس کا حقیقت میں بیٹا ہے اس کو پھانسی دیا جائے تو اس وقت خالد فی الفور عذر کر دے گا کہ زید حقیقت میں بکر کا بیٹا ہے میرا اس سے کچھ تعلق نہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ کسی شخص کے دو باپ تو نہیں ہو سکتے پس اگر متبنٰی بنانے والا حقیقت میں باپ ہوگیا ہے تو یہ فیصلہ ہونا چاہئے کہ اصلی باپ کس دلیل سے لا دعویٰ کیا گیا ہے۔ غرض اس سے زیادہ کوئی بات بھی بیہودہ نہیں کہ خدا کی بنائی ہوئی حقیقتوں کو بدل ڈالنے کا قصد کریں۔ دو باتیں ہندوؤں میں قدیم سے چلی آتی ہیں۔ بیٹا بنانا اور خدا بنانا۔ بیٹا بنانے کے لئے تو بڑا عمدہ طریق نیوگ ہے اور خدا اس طرح بناتے ہیں کہ سالگرام کے پتھر پر معمولی منتر پڑھ کر جس کو اواہن کا منتر بھی کہتے ہیں اپنے ہی وہم سے یہ یقین کر لیتے ہیں کہ اب اس میں پرمیشر داخل ہوگیا ہے مگر آریوں نے پرمیشر بننے کے طریق سے تو انکار کر دیا ہے مگر بیٹا بنانے کا نسخہ اب تک ان کی نظر میں قابل پسند ہے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اول آریہ لوگ گود میں بیگانہ بچہ لے کر بیٹا بناتے تھے پھر یہ بات کچھ بناوٹی سی معلوم ہوئی لہذا اس کے قائم مقام نیوگ نکالا کہ تا اپنی عورت کو دوسرے سے ہم بستر کرا کر اس کا نطفہ لے لیں تا نطفہ کے اجزاء جورو کے اجزاء سے مل جائیں اور اس طرح پر کچھ مناسبت پیدا