کھڑے ہو کر دعویٰ کیا کہ وید کی رو سے زندہ خاوند والی کا نیوگ جائز ہے۔ لیکن ان بھلے مانسوں نے قرآن کی تعلیم پر کیوں افتراء کیا۔ اب ہمیں دکھلاویں کہ قرآن کریم میں یاکسی حدیث میں کہاں ہے کہ جو اپنی عورت کو ماں کہہ بیٹھے پھر وہ عورت تب اس کے گھر میں آباد ہو سکتی ہے جبکہ دوسرے کے نکاح میں آجاوے اور تین مہینے اس کے گھر میں آباد رہے اور اگر دکھلا نہ سکیں تو بجز اس کے کیا کہیں۔ کہ *** اللّٰہ علی الکاذبین جس کی تعلیم یہ خیانت ہے ایسے دیں پر ہزار *** ہے اب ہم ان نادانوں پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن میں کونسی ہدایتیں ہیں جن کی پابندی کے بعد پھر ایک شخص طلاق دینے کا مجاز ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں۔ ۱؂ یعنی جن عورتوں کی طرف سے ناموافقت کے آثار ظاہر ہو جائیں پس تم ان کو نصیحت کرو اور خواب گاہوں میں ان سے جدا رہو اور مارو (یعنی جیسی جیسی صورت اور مصلحت پیش آوے) پس اگر وہ تمہاری تابعدار ہو جائیں تو تم بھی طلاق وغیرہ کا نام نہ لو اور تکبر نہ کرو کہ کبریائی خدا کے لئے مسلّم ہے یعنی دل میں یہ نہ کہو کہ اس کی مجھے کیا حاجت ہے میں دوسری بیوی کر سکتا ہوں بلکہ تواضع سے پیش آؤ کہ تواضع خدا کو پیاری ہے اور پھر فرماتا ہے کہ اگر میاں بیوی کی مخالفت کا اندیشہ ہو تو ایک منصف خاوند کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف بیوی کی طرف سے اگر منصف صلح کرانے کے لئے کوشش کریں گے تو خدا توفیق دے دے گا۔ اور پھر فرمایا۔