۱؂ ۔۔۔ ۲؂۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۳؂ ۔ ترجمہ۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہونے کے لئے قسم کھا لیتے ہیں وہ طلاق دینے میں جلدی نہ کریں بلکہ چار مہینے انتظار کریں۔ سو اگر وہ اس عرصہ میں اپنے ارادہ سے باز آجاویں پس خدا کو غفور و رحیم پائیں گے اور اگر طلاق دینے پر پختہ ارادہ کرلیں سو یاد رکھیں کہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے یعنی اگر وہ عورت جس کو طلاق دی گئی خدا کے علم میں مظلوم ہو اور پھر وہ بد دعا کرے تو خدا اس کی بد دعا سن لے گا۔ اور چاہئے کہ جن عورتوں کو طلاق دی گئی وہ رجوع کی امید کے لئے تین حیض تک انتظار کریں اور ان تین حیض میں جو قریباً تین مہینے ہیں دو دفعہ طلاق ہوگی یعنی ہر یک حیض کے بعد خاوند عورت کو طلاق دے اور جب تیسرا مہینہ آوے تو خاوند کو ہوشیار ہو جانا چاہئے کہ اب یا تو تیسری طلاق دے کر احسان کے ساتھ دائمی جدائی اور قطع تعلق ہے اور یا تیسری طلاق سے رک جائے اور عورت کو حسن معاشرت کے ساتھ اپنے گھر میں آباد کرے اور یہ جائز نہیں ہوگا کہ جو مال طلاق سے پہلے عورت کو دیا تھا وہ واپس لے لے اور اگر تیسری طلاق جو تیسرے حیض کے بعد ہوتی ہے دیدے تو اب وہ عورت اس کی عورت نہیں رہی اور جب تک وہ دوسرا خاوند نہ کرلے تب