اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے
۔ ۔ ۱۔(الجزو نمبر ۲۸ سورۃ المجادلہ)
یعنی جو شخص اپنی عورت کو ماں کہہ بیٹھے تو وہ
حقیقت میں اس کی ماں نہیں ہو سکتی انکی مائیں وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے سو یہ ان کی بات نامعقول اور سراسر جھوٹ ہے اور خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اور جو لوگ ماں کہہ
بیٹھیں اور پھر رجوع کریں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے ایک گردن آزاد کر دیں یہی خدائے خبیر کی طرف سے نصیحت ہے اور اگر گردن آزاد نہ کر سکیں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے
دو مہینہ کے روزے رکھیں اور اگر روزے نہ رکھ سکیں تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاویں۔ اب فرمائیے کہ جھوٹے بدذات کو کیا سزا دی جاوے جس نے ناحق افترا کر کے اپنی طرف سے یہ بات بنائی
کہ ماں کہنے کی حالت میں ایسی طلاق ہو جاتی ہے کہ پھر جب تک عورت دوسرا خصم نہ کرلے خاوند کی طرف رجوع نہیں کر سکتی ایسے دروغ گوؤں کو اگر ایک مرتبہ بھی سزا ہو جائے تو پھر
آئندہ جھوٹ بنانے پر جرأت نہ کریں دیکھو کیسی بے حیائی اور افترا پردازی ہے کہ نیوگ کی بات پر غصہ کر کے قرآن پر افترا باندھا۔ یہ غصہ وید پر کرنا چاہئے تھا جس نے ہندوؤں کی عزت کو خاک
میں ملا دیا ایسا کہ وہ منہ دکھانے کے لائق بھی نہ رہے۔ پھر یہ غصہ منو پر کرنا چاہئے تھا جس نے وید کی ان شرتیوں کو شائع کیا پھر یاگولک وید کا بھاشیکار اس غصہ کے لائق تھا جس نے یہ تفسیر
لکھ کر سارے آریہ ورت میں شائع کی پھر پورانوں پر ؔ یہ غصہ چاہئے تھا جنہوں نے گھر گھر یہ خوشخبری سنائی اور پھر دیانند کو کچھ سزا دینی چاہئے تھی جس نے اس زمانہ میں وید کا پردہ فاش
کیا۔ پھر گوردت بھی کسی قدر مار کھانے کے لائق تھا جس نے نیوگ کے جواز پر انگریزی رسالے لکھے اور میدان میں