خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۱ (الجزو نمبر ۲ سورۃ البقرۃ) یعنی حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ
کرو اور ان کے نزدیک مت جاؤ یعنی صحبت کے ارادہ سے جب تک کہ وہ پاک ہولیں۔ اگر ایسی صفائی سے کنارہ کشی کا بیان وید میں بھی ہو تو کوئی صاحب پیش کریں لیکن ان آیات سے یہ مراد نہیں کہ
خاوند کو بغیر ارادہ صحبت کے اپنی عورت کو ہاتھ لگانا بھی حرام ہے یہ تو حماقت اور بیوقوفی ہوگی کہ بات کو اس قدر دور کھینچا جائے کہ تمدن کے ضرورات میں بھی حرج واقع ہو اور عورت کو
ایام حیض میں ایک ایسی زہر قاتل کی طرح سمجھا جائے جس کے چھونے سے فی الفور موت نتیجہ ہے۔ اگر بغیر ارادہ صحبت عورت کو چھونا حرام ہوتا تو بیچاری عورتیں بڑی مصیبت میں پڑ جاتیں۔
بیمار ہوتیں تو کوئی نبض بھی دیکھ نہ سکتا گرتیں تو کوئی ہاتھ سے اٹھا نہ سکتا اگر کسی درد میں ہاتھ پیر دبانے کی محتاج ہوتیں تو کوئی دبا نہ سکتا اگر مرتیں تو کوئی دفن نہ کر سکتا کیونکہ ایسی پلید
ہوگئیں کہ اب ہاتھ لگانا ہی حرام ہے سو یہ سب نافہموں کی جہالتیں ہیں اور سچ یہی ہے کہ خاوند کو ایام حیض میں صحبت حرام ہو جاتی ہے لیکن اپنی عورت سے محبت اور آثار محبت حرام نہیں
ہوتے۔
تیسرا سوال۔ کیا طلاق میں غیرت سے کام لیا گیا ہے کہ ایک شخص غصہ سے اپنی عورت کو ماں بہن کہہ کر طلاق دیدے تو اسے پھر عورت بنانا اور گھر میں لانا جائز نہیں جب تک تین
مہینے غیر شخص کا بستر گرم نہ کرلے۔
الجواب۔ یہ اعتراض صرف ہندوؤں کے تعصب اور بہتان تراشی اور دروغ گوئی پر ہی دلیل نہیں بلکہ ؔ اس بات پر بھی دلیل ہے کہ کس قدر یہ نادان فرقہ
تعلیم قرآن کے پاک اصولوں سے بے خبر ہیں۔ اے لالہ صاحبان اس سے بڑھ کر اور کوئی بھی بد ذاتی نہیں کہ ایک بے اصل افترا کو ایسے الفاظ میں پیش کریں جس سے یہ یقین دلانا منظور ہو کہ ہمیں
اس میں یقینی اور قطعی علم ہے۔
اب میں آپ لوگوں کی کیا کیا غلطی دور کروں کہ آپ لوگوں نے اس سوال کو غلطیوں کی معجون بنا دیا۔ اول تو کسی جاہل کا غصہ میں ماں بہن کہہ دینا طلاق کا
موجب ہی نہیں ہو سکتا