گئیں اور شیطانی جوش نے یہ تلقین دی کہ یہ سب سچ ہے لہٰذا اس روسیاہی اور ندامت کا انہوں نے بھی حصہ لیا جو اب نادان
پادریوں کے منہ پر نمایاں ہے میرے نزدیک جھوٹا ثابت ہونے کی ذلت ہزاروں موتوں سے بدتر ہے اگر عیسائی سچے تھے تو اب ہماری باتوں کا کیوں جواب نہیں دیتے۔ اگر وہ عربی میں دخل رکھتے
تھے تو ہم نے نورالحق کو تالیف کر کے پانچ ہزار روپیہ کا اشتہار دیا اور کہا کہ یہ روپیہ اپنے پاس ہی جمع کرالیں اور عربی میں بالمقابل کتاب لکھ کر دکھلاویں سو ایسے چپ ہوئے کہ گویا مرگئے
کیا یہی وہ لوگ تھے جن کی شہادت قرآن کریم کی نکتہ چینی میں قبول کی گئی کسی کتاب کی تعلیم پر ذاتی حملہ کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ اول اس کتاب کی زبان بھی معلوم ہو ورنہ صرف دخل
بیجا اور شیطانی حرکت ہوگی۔ ہاں اس صورت میں ایک شخص جو زبان سے ناواقف ہے اعتراض کر سکتا ہے۔ جب اعتراض کی بناء ایسے فاضل اور مسلم لوگوں کی شہادت پر ہو جو زبان کے ماہر اور
دینی اسرار کے محقق مانے گئے ہیں جیسا کہ ہم نے نیوگ کا اعتراض دیانند کے وید بھاش کے مطابق اور منو اور یاگولک جی اور گوردت اور پوران وغیرہ کے حوالہ سے کیا ہے سو ایسے نہایت بزرگ
اعتراضوں میں جو قوم کے برگزیدہ اور مسلم پیشواؤں کے حوالوں پر مبنی ہوں جن کی شہادت کو ماننا ضروری ہو ہریک کو حق پہنچتا ہے کہ ان لوگوں کو ملزم کرے جو لوگ ان کی شہادت کو ایک قطعی
اور یقینی شہادت سمجھتے ہیں مگر یہ تو نہایت بے ایمانی اور بد ذاتی ہے کہ آپ تو زبان میں کچھ بھی مہارت نہ رکھیں اور ان معانی کو قبول نہ کریں جو قوم کے پیشوا بتلاتے ہیں اور ایسے معانی پیش
کریں کہ نہ تو قوم کے پیشوا نے بتلائےؔ اور نہ ان لوگوں نے جو اس پیشوا کے بعد بطور نائب کے تسلیم کئے گئے تھے اور نہ مسلم العلم والفضل اکابر قوم نے ان معنوں کی طرف کوئی بھی اشارہ
کیا یہی خیانتیں ہیں جو نادان پادریوں سے ظہور میں آئیں خدائے کامل و قدوس پر تو ماں کی حاجت کا بھی داغ لگایا اور اس پاک تعلیم پر اعتراض کیا جس کی راستی پر ایک ایسا بادیہ نشین بھی گواہی دے
سکتا ہے جو زمین و آسمان کی بناوٹ کو سوچ کر اس کے خالق کا پتہ لگانا چاہے۔
دوسرا سوال۔ مسلمان حیض کے دنوں میں بھی عورت سے جدا نہیں ہوتے۔ الجواب۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان
بہتان طراز لوگوں کا یہ کیسا اعتراض ہے یہ لوگ جھوٹ بولنے کے وقت کیوں