اعتراضوں کا ان کے پاس ثبوت کیا ہے۔ کیا قرآن شریف سے یا کسی حدیث صحیح سے انہوں نے لئے ہیں۔ ہمیں تو ان نادانوں پر
نہایت افسوس کے ساتھ رونا آتا ہے کہ جنہوں نے جلد بازی سے نہ صرف اپنے تئیںؔ تباہ کیا بلکہ بعض متعصب آریوں کو بھی ساتھ ہی لے ڈوبے یہ کمینہ طبع لوگ نکتہ چینی کے لئے تو حریص
تھے ہی اس پر چند شریر اور نادان عیسائیوں کی کتابیں ان کو مل
کسی قدر صابی تھے یعنی ستارہ پرست تھے ایک عورت کے کئی کئی خصم ہوتے تھے اور ہندوؤں کی قدیم رسم کی طرح یہ رسم بھی
بے تکلف جاری تھی کہ جب عورت اپنی معمولی حالت کے بعد غسل سے فارغ ہوتی تو کمبخت بے حیا شوہر اس کو کہتا کہ فلاں شخص کو بلا بھیج اور حمل کے آثار ظاہر ہونے تک بڑی احتیاط کے
ساتھ جورو سے کنارہ کش رہتا اور اس سے یہ غرض ہوتی کہ بچہ شریف اور نجیب شخص کے تخم سے ہو اور اس سے بڑھ کر یہ رسم تھی جو چند آدمی جو شمار میں دس سے کم ہوتے اکٹھے ہو کر
ایک عورت کے پاس جاتے اور اس سے ہم بستر ہوتے۔ اور پھر لکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سب خرابیوں کو دور فرمایا اور نکاح کو ایک معاہدہ قرار دیا گیا اور ہریک افراط کو دور
کر دیا گیا اور تشریح کی گئی کہ کن عورتوں کے ساتھ نکاح ہونا چاہئے اور کس حد تک اور وہ حدود مقرر کئے گئے جو عقل اور اخلاق کے برخلاف نہیں اور جب ہم عرب جاہلیت کی کثرت ازواج اور
اس طرز سلوک کا خیال کرتے ہیں جو وہ اپنی عورتوں کے ساتھ کرتے تھے اور پھر اس حالت پر غور کرتے ہیں کہ جو اسلام کے طفیل سے ان کو حاصل ہوئی تو ہمارا دل ایک فخر آمیز تعجب سے بھر
جاتا ہے اور یقین ہوتا ہے کہ انسان کے دلؔ پر اس قسم کا تصرف کہ جس نے ان شہوت پرستوں کی حالتوں کو بالکل پھیر دیا بے شبہ وہ ربانی تصرف تھا اور ایزک ٹیلر صاحب نے افریقہ میں مذہب
اسلام کی نسبت بحث کرتے ہوئے قصبہ وولورہمپٹن کے چرچ کانگریس کے روبرو اپنی رائے حسب ذیل بیان کی۔ تعدد ازواج ایک بڑا دقیق مسئلہ ہے موسیٰ نے اس کو نہیں روکا اور داؤد جس کا خدا کا
سا دل تھا اس کو عمل میں لایا اور انجیل میں صاف طور سے ممنوع نہیں ہے محمد ؐ نے تعدد ازواج کی بے حد اجازت کو محدود کر دیا۔ تعدد ازواج کے سبب مسلمانوں میں بدکاری کم ہے ہم کو خبردار
ہونا چاہئے کہ شاید ایک برائی کو بے وقت دور کرنے میں ہم اس کی جگہ ایک اس سے زیادہ ُ بری ُ برائی قائم کر دیں۔ منہ