عبارتیں حاشیہ میں نقل کر کے لکھتے ہیں تا معلوم ہو کہ مخالف لوگوں نے بھی باوجودیکہ نہیں چاہتے تھے کہ تائید اسلام میں
کچھ لکھیں مجبور ہو کر اس شہادت کو ادا کر دیا ہے ہاں بعض بدذات پادری جو اپنے فطرؔ تی تعصب کے ساتھ جہالت کو بھی جمع رکھتے تھے انہوں نے شیاطین کی طرح بہت افترا کئے اور صدہا
اعتراض اسلام اور قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر جما دئیے مگر دیکھنا چاہئے کہ ان
کا قدیم سے رواج چلا آتا تھا آپ کے احکام نے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم نے
کثرت نکاح کے طریق کو جو اہل مشرق میں بہت رواج پاگیا تھا کم کر دیا یعنی گھٹا دیا وہ لوگ علاوہ کثرت ازدواج کے اپنی رشتہ دار عورتوں سے بھی خراب ہوا کرتے تھے مگر آپ کی تعلیم سے وہ
باتیں بالکل معدوم ہوگئیں۔ کوئی آدمی ایسا نہیں کہ جو قرآن شریف پڑھے اور اس کے دل پر خوف کا اثر نہ ہو۔ حقیقت میں یہ بات ناممکن ہے کہ ایک شخص بانی مذہب ہو اور وہ ایسی باتیں نکالے جن سے
بدکاری رائج ہو اور پھر اس کے مذہب میں بالکل کامیابی حاصل ہو جائے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس مذہب کے مسائل کی سختی ہی زیادہ اس کی کامیابی کی باعث ہوئی ہے اور پھر صفحہ۱۷۲ میں
لکھتے ہیں کہ مشرق میں بہت سے نکاح کرنے کی رسم حضرت ابراہیمؑ کے وقت سے ہی چلی آتی ہے اور یہ بات انجیل کے بہت سے فقروں سے ثابت ہے کہ یہ رسم انجیل کے زمانہ میں بھی ُ
برے خیال سے نہیں کی گئی ایسا ہی پروفیسرمارس صاحب اسلامی تعلیم کے اعتدال کی تعریف کر کے اخیر میں لکھتے ہیں کہ جب عیسائی مذہب ؔ کے پیچ در پیچ اور ناقابل فہم عقیدوں پر خیال کیا
جاتا ہے تو شاید ایک فلاسفر دین اسلام کی خوبی اور صفائی عقائد اور سادگی اور اس کا بناوٹ سے پاک ہونا دیکھ کر آہ کر کے پچھتاوے کہ میرا مذہب ایسا کیوں نہ ہوا *پھر گبن صاحب اپنی تاریخ میں
لکھتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں یہودیوں میں جورواں کرنے کی کوئی حد نہ تھی اور مجوسیوں نے اپنی ماؤں کو بھی اپنے لئے مباح کر لیا تھا۔ ایسا ہی عرب بھی بلاتعیّن جوروئیں رکھتے تھے اور انکی
اخلاقی حالت یہاں تک بگڑ گئی تھی کہ میراث کے مال کی طرح باپ کی منکوحہ عورتوں کو بھی باہم بانٹتے تھے اور تمام عورتیں بلا کسی امتیاز کے مردوں کی وحشیانہ خواہشوں کے پورا کرنے کا آلہ
سمجھی جاتی تھیں بلکہ بعض قبائل یمن میں جو کسی قدر یہودی اور