آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کے دو زمانے
اسی غرض سے خداتعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم
کے سوانح کو دو حصوں پر منقسم کردیا۔
ایک حصہ دکھوں اور مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور دوسرا حصہ فتحیابی کا۔ تا مصیبتوں کے وقت میں وہ خلق ظاہر ہوں جو مصیبتوں کے وقت ظاہر ہوا کرتے
ہیں اور فتح اور اقتدار کے وقت میں وہ خلق ثابت ہوں جو بغیر اقتدار کے ثابت نہیں ہوتے۔ سو ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے دونوں قسم کے اخلاق دونوں زمانوں اور دونوں حالتوں کے وارد
ہونے سے کمال وضاحت سے ثابت ہوگئے۔ چنانچہ وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں شامل حال رہا۔ اس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت
واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکل رکھنا اور جزع فزع سے کنارا کرنا اور اپنے کام
میں سست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا ایسے طور پر دکھلا دئیے جو کفار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائےؔ اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو تو اس
استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا۔
اور پھر جب دوسرا زمانہ آیا یعنی فتح اور اقتدار اور ثروت کا زمانہ، تو اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اعلیٰ
اخلاق عفو اور سخاوت اور شجاعت کے ایسے کمال کے ساتھ صادر ہوئے جو ایک گروہ کثیر کفار کا انہی اخلاق کو دیکھ کر ایمان لایا۔ دکھ دینے والوں کو بخشا اور شہر سے نکالنے والوں کو امن دیا۔
ان کے محتاجوں کو مال سے مالا مال کر دیا اور قابو پاکر اپنے بڑے بڑے دشمنوں کو بخش دیا۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے آپ کے اخلاق دیکھ کر گواہی دی کہ جب تک کوئی خدا کی طرف سے اور
حقیقتاً راستباز نہ ہو یہ اخلاق ہرگز دکھلا نہیں سکتا۔