پڑے گی کہ آٹے کو اس کے مناسب قوام پر رکھ سکیں بلکہ یا تو پتھر سا رہے گا اور یا پتلا ہوکر گلگلوں کے لائق ہو جائے گا اور اگر مر مر کر تھک تھک کر ۱؂ گوندھ بھی لیں تو روٹی کا یہ حال ہوگا کہ کچھ جلے گی اور کچھ کچی رہے گی۔ بیچ میں ٹکیہ رہے گی اور کئی طرف سے کان نکلے ہوئے ہوں گے حالانکہ پچاس برس تک ہم پکتی ہوئی دیکھتے رہے۔ غرض مجرد علم کی شامت سے جو عملی مشق کے نیچے نہیں آیا‘ کئی سیر آٹے کا نقصان کریں گے۔ پھر جبکہ ادنیٰ ادنیٰ سی بات میں ہمارے علم کا یہ حال ہے تو بڑے بڑے امور میں بجز عملی مزاولت اور مشق کے صرف علم پر کیونکر بھروسہ رکھیں۔ سو خدا تعالیٰ ان آیتوں میں یہ سکھاتا ہے کہ جو مصیبتیں میں تم پر ڈالتا ہوں وہ بھی علم اور تجربہ کا ذریعہ ہیں۔ یعنی ان سے تمہارا علم کامل ہوتا ہے۔ اور پھر آگے فرماتا ہے کہ تم اپنے مالوں اور جانوں میں بھی آزمائے جاؤ گے۔ لوگ تمہارے مال لوٹیں گے، تمہیں قتل کریں گے اور تم یہودیوں اور عیسائیوں اور مشرکوں کے ہاتھ سے بہت ہی ستائے جاؤ گے۔ وہ بہت کچھ ایذا کی باتیں تمہارے حق میں کہیں گے۔ پس اگر تم صبر کرو گے اور بیجا باتوں سے بچو گے تو یہ ہمت اور بہادری کا کام ہوگا۔ ان تمام آیات کا مطلب یہ ہے کہ بابرکت علم وہی ہوتا ہے جو عمل کے مرتبہ میں اپنی چمک دکھاوے اور منحوس علم وہ ہے جو صرف علم کی حد تک رہے کبھی عمل تک نوبت نہ پہنچے۔ جاننا چاہئے کہ جس طرح مال تجارت سے بڑھتا ہے اور پھولتا ہے۔ ایسا ہی علم عملی مزاولت سے اپنے روحانی کمال کو پہنچتا ہے۔ سو علم کو کمال تک پہنچانے کا بڑا ذریعہ عملی مزاولت ہے۔ مزاولت سے علم میں نور آ جاتا ہے اور یہ بھی سمجھو کہ علم کا حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچنا اور کیا ہوتا ہے۔ یہی تو ہے کہ عملی طور پر ہر ایک گوشہ اس کا آزمایا جاوے۔ چنانچہ اسلام میں ایسا ہی ہوا۔ جو کچھ خدا تعالیٰ نے قرآن کے ذریعہ سے لوگوں کو سکھایا ان کو یہ موقع دیا کہ عملی طور پر اس تعلیم کو چمکاویں اور اس کے نور سے پر ہو جاویں۔