یہی وجہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کے پرانے کینے یکلخت دور ہوگئے۔ آپ کا بڑا بھاری خلق جس کو آپ نے ثابت کر کے
دکھلا دیا وہ خلق تھا جو قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے۔
یعنی ان کو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا خدا کی راہ میں ہے یعنی اس کا جلال
ظاہر کرنے کے لئے اور نیز اس کے بندوں کے آرام دینے کے لئے ہے تا میرے مرنے سے ان کو زندگی حاصل ہو۔ اس جگہ جو خدا کی راہ میں اور بندوں کی بھلائی کے لئے مرنے کا ذکر کیا گیا ہے
اس سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ آپ نے نعوذ باللہ جاہلوں یادیوانوں کی طرح درحقیقت خودکشی کا ارادہ کرلیا تھا۔ اس وہم سے کہ اپنے تئیں کسی آلہ سے قتل کے ذریعہ سے ہلاک کر دینا اوروں کو
فائدہ پہنچائے گا بلکہ آپ ان بیہودہ باتوں کے سخت مخالف تھے اور قرآن ایسی خودکشی کے مرتکب کو سخت مجرم اور قابل سزا ٹھہراتا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔
یعنی خودکشی نہ کرو اور اپنے
ہاتھوں سے اپنی موت کے باعث نہ ٹھہرو اور یہ ظاہر ہے کہ اگر مثلاً خالد کے پیٹ میں دردہو اور زید اس پر رحم کر کے اپنا سر پھوڑے تو زید نے خالد کے حق میں کوئی نیکی کا کام نہیں کیا بلکہ
اپنے سر کو احمقانہ حرکت سے ناحق پھوڑا۔ نیکی کا کام تب ہوتا کہ جب زید خالد کے خدمت میں مناسب اور مفید طریق کے ساتھ سرگرم رہتا۔ اور اس کے لئے عمدہ دوائیں میسر کرتا اور طبابت کے
قواعد کے موافق اس کا علاج کرتا۔ مگر اس کے سر کے پھوڑنے سے زید کو تو کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ ناحق اس نے اپنے وجود کے ایک شریف عضو کو دکھ پہنچایا۔ غرض اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے واقعی ہمدردی اور محنت اٹھانے سے بنی نوع کی رہائی کے لئے جان کو وقف کر دیا تھا اور دُعا