نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے خدا کو دیکھ لیا۔ غرض یہ بندوں کیلئے انتہائی تنبیہ ہے اور اس پر تمام سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور پوری تسلی ملتی ہے۔ مقرر کا مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہونا میں بنی نوع پر ظلم کروں گا اگر میں اس وقت ظاہر نہ کروں کہ وہ مقام جس کی میں نے یہ تعریفیں کی ہیں اور وہ مرتبہ مکالمہ اور مخاطبہ کا جس کی میں نے اس وقت تفصیل بیان کی۔ وہ خدا کی عنایت نے مجھے عنایت فرمایا ہے تا میں اندھوں کو بینائی بخشوں اور ڈھونڈنے والوں کو اس گم گشتہ کا پتہ دوں اور سچائی کو قبول کرنے والوں کو اس پاک چشمہ کی خوشخبری سناؤں جس کا تذکرہ بہتوں میں ہے اور پانے والے تھوڑے ہیں۔۱؂ میں سامعین کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ خدا جس کے ملنے میں انسان کی نجات اور دائمی خوشحالی ہے، وہ بجز قرآن شریف کی پیروی کے ہرگز نہیں مل سکتا۔ کاش جو میں نے دیکھا ہے لوگ دیکھیں اور جو میں نے سنا ہے وہ سنیں اور قصوں کو چھوڑ دیں اور حقیقت کی طرف دوڑیں۔ وہ کامل علم کا ذریعہ جس سے خدا نظر آتا ہے۔ وہ میل اتارنے والا پانی جس سے تمام شکوک دور ہو جاتے ہیںؔ ، وہ آئینہ جس سے اس برتر ہستی کا درشن ہو جاتا ہے، خدا کا وہ مکالمہ اور مخاطبہ ہے جس کا میں ابھی ذکر کر چکا ہوں ۔جس کی روح میں سچائی کی طلب ہے وہ اٹھے اور تلاش کرے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر روحوں میں سچی تلاش پیدا ہو اور دلوں میں سچی پیاس لگ جائے تو لوگ اس طریق کو ڈھونڈیں اور اس راہ کی تلاش میں لگیں۔ مگر یہ راہ کس طریق سے کھلے گی اور حجاب کس دوا سے اٹھے گا۔ میں سب طالبوں کو یقین دلاتا ہوں کہ صرف اسلام ہی ہے جو اس راہ کی خوشخبری دیتا ہے۔ اور دوسری قومیں تو خدا کے الہام پر مدت سے مہر لگا چکی ہیں۔ سو یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے مہر نہیں بلکہ محرومی کی وجہ سے انسان ایک حیلہ پیدا کر لیتا ہے۲؂۔ اور یقیناً سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کانوں کے سن سکیں یا بغیر زبان کے