نے سوال کیا اور خدا نے جواب دیا۔ پھر اسی وقت عین بیداری میں اس نے کوئی اور عرض کی اور خدا نے اس کا بھی جواب دیا۔ پھر گذارش عاجزانہ کی، خدا نے اس کا بھی جواب عطا فرمایا۔ ایسا ہی دس مرتبہ تک خدا میں اور اس میں باتیں ہوتی رہیں اور خدا نے بارہا ان مکالمات میں اس کی دعائیں منظور کی ہوں۔ عمدہ عمدہ معارف پر اس کو اطلاع دی ہو۔ آنے والے واقعات کی اس کو خبر دی ہو اور اپنے برہنہ مکالمہ سے بار بار کے سوال و جواب میں اس کو مشرف کیا ہو تو ایسے شخص کو خدا تعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہئے اور سب سے زیادہ خدا کی راہ میں فدا ہونا چاہئے کیونکہ خدا نے محض اپنے کرم سے اپنے تمام بندوں میں سے اسے چن لیا اور ان صدیقوں کا اس کو وارث بنا دیا جو اس سے پہلے گذر چکے ہیں۔ یہ نعمت نہایت ہی نادر الوقوع اور قسمت۱؂ کی بات ہے جس کو ملی۔ اس کے بعد جو کچھ ہے وہ ہیچ ہے۔ اسلام کی خصوصیت اس مرتبہ اور اس مقام کے لوگ اسلام میں ہمیشہ ہوتے رہے ہیں اور ایک اسلام ہی ہے جس میں خدا بندہ سے قریب ہو کر اس سے باتیں کرتااور اس کے اندر بولتا ہے۔وہ اس کے دل میں اپنا تخت بناتا اور اس کے اندر سے اسے آسمان کی طرف کھینچتا ہے اور اس کو وہ سب نعمتیں عطا فرماتا ہے جو پہلوں کو دی گئیں۔ افسوس اندھی دنیا نہیں جانتی کہ انسان نزدیک ہوتا ہوتا کہاں تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ آپ تو قدم نہیں اٹھاتے اور جو قدم اٹھائے یا تو اس کو کافر ٹھہرایا جاتا ہے اور یا اس کو معبود ٹھہرا کر خدا کی جگہ دی جاتی ہے۔ یہ دونوں ظلم ہیں۔ ایک افراط سے اور ایک تفریط سے پیدا ہوا۔ مگر عقلمند کو چاہئے کہ وہ کم ہمت نہ ہو اور اس مقام اور اس مرتبہ کا انکاری نہ رہے اور نہصاحب اس مرتبہ کی کسر شان کرے اور نہ اس کی پوجا شروع کردے۔ اس مرتبہ پر خدا تعالیٰ وہ تعلقات اس بندہ سے ظاہر کرتا ہے کہ گویا اپنی الوہیت کی چادر اس پر ڈال دیتا ہے اور ایسا شخص خدا کے دیکھنے کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہی بھید ہے جو ہمارے