بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اس پیارے محبوب کا منہ دیکھ سکیں۔ میں جوان تھا۔ اب بوڑھا ہوا
مگر میں نے کوئی نہ پایا جس نے بغیر اس پاک چشمہ کے اس کھلی کھلی معرفت کا پیالہ پیا ہو۔
کامل علم کا ذریعہ خدائے تعالیٰ کا الہام ہے
اے عزیزو۔ اے پیارو۔ کوئی انسان خدا کے ارادوں میں
اس سے لڑائی نہیں کر سکتا۔ یقیناً سمجھ لو کہ کامل علم کا ذریعہ خدا تعالیٰ کا الہام ہے جو خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو ملا۔ پھر بعد اس کے اس خدا نے جو دریائے فیض ہے یہ ہرگز نہ چاہا کہ آئندہ
اس الہام پرمہر لگا دے اور اس طرح پر دنیا کو تباہ کرے بلکہ اس کے الہام اور مکالمے اور مخاطبے کے ہمیشہ دروازے کھلے ہیں۔ ہاں ان کو ان کی راہوں سے ڈھونڈو۔ تب وہ آسانی سے تمہیں ملیں
گے۔ وہ زندگی کا پانی آسمان سے آیا اور اپنے مناسب مقام پر ٹھہرا۔ اب تمہیں کیا کرنا چاہئے تا تم اس پانی کو پی سکو۔ یہی کرنا چاہئے کہ افتاں و خیزاں اس چشمہ تک پہنچو، پھر اپنا منہ اس چشمہ
کے آگے رکھ دو تا اس زندگی کے پانی سے سیراب ہو جاؤ۔ انسان کی تمام سعادت اسی میں ہے کہ جہاں روشنی کا پتہ ملے اسی طرف دوڑے اور جہاں اس گم گشتہ دوست کا نشان پیدا ہو، اسی راہ کو
اختیار کرے۔ دیکھتے ہو کہ ہمیشہ آسمان سے روشنی اترتی اور زمین پر پڑتی ہے۔ اسی طرح ہدایت کا سچا نور آسمان سے ہی اترتا ہے۔ انسان کی اپنی ہی باتیں اور اپنی ہی اٹکلیں سچا گیان اس کو نہیں
بخش سکتیں۔ کیا تم خدا کو بغیر خدا کی تجلی کے پا سکتے ہو؟ کیا تم بغیر اس آسمانی روشنی کے اندھیرے میں دیکھ سکتے ہو؟ اگر دیکھ سکتے ہو تو شاید اس جگہ بھی دیکھ لو۔ مگر ہماری آنکھیں گو بینا
ہوں تا ہم آسمانی روشنی کی محتاج ہیں۔ اور ہمارے کان گو شنوا ہوں تاہم اس ہوا کے حاجتمند ہیں جو خدا کی طرف سے چلتی ہے۔ وہ خدا سچا خدا نہیں ہے جو خاموش ہے اور سارا مدار ہماری اٹکلوں پر