یعنی دوزخی کہیں گے کہ اگر ہم عقلمند ہوتے اور مذہب اور عقیدہ کو معقول طریقوں سے آزماتے یا کامل عقلمندوں اور
محققوں کی تحریروں اور تقریروں کو توجہ سے سنتے تو آج دوزخ میں نہ پڑتے۔ یہ آیت اس دوسری آیت کے موافق ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
یعنی خدائے تعالیٰ انسانی نفوس کو ان کی وسعت
علمی سے زیادہ کسی بات کو قبول کرنے کے لئے تکلیف نہیں دیتا اور وہی عقیدے پیش کرتا ہے جن کا سمجھنا انسان کی حد استعداد میں داخل ہے۔ تا اس کے حکم تکلیف مالا یطاق میں داخل نہ ہوں اور
ان آیات میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کانوں کے ذریعہ سے بھی علم الیقین حاصل کر سکتا ہے۔ مثلاً ہم نے لنڈن تو نہیں دیکھا، صرف دیکھنے والوں سے اس شہر کا وجود سنا ہے۔ مگر
کیا ہم شک کر سکتے ہیں کہ شاید ان سب نے جھوٹ بول دیا ہوگا۔ یا مثلاً ہم نے عالمگیر بادشاہ کا زمانہ نہیں پایا اور نہ عالمگیر کی شکل دیکھی ہے۔ مگر کیا ہمیں اس بات میں کچھ بھی شبہ ہے کہ
عالمگیر چغتائی بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔ پس ایسا یقین کیوں حاصل ہوا؟ اس کا جواب یہی ہے کہ صرف سماع کے تواتر سے۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ سماع بھی علم الیقین کے مرتبہ تک
پہنچاتا ہے۔ نبیوں کی کتابیں اگر سلسلہ سماع میں کچھ خلل نہ رکھتی ہوں وہ بھی ایک سماعی علم کا ذریعہ ہیں۔ لیکن اگر ایک کتاب آسمانی کتاب کہلا کر پھر مثلاً پچاس ساٹھ نسخے اس کے پائے جائیں
اور بعض بعض کے مخالف ہوں تو گو کسی فریق نے یقین بھی کرلیا ہو کہ ان میں سے صرف دو چار صحیح ہیں اور باقی وضعی اور جعلی۔ لیکن محقق کے لئے ایسا یقین جوکسی کامل تحقیقات پر مبنی
نہیں بے ہودہ ہوگا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سب کتابیں اپنے تناقض کی وجہ سے ردّی اور ناقابل اعتبار قرار دی جائیں گی۔ اور ہرگز جائز