نہیں ہوگا کہ ایسے متناقض بیانات کو کسی علم کا ذریعہ ٹھہرایا جائے۔ کیونکہ علم کی یہ تعریف ہے کہ ایک یقینی معرفت عطا کرے اور مجموعہ متناقضات میں یقینی معرفت کا پایا جانا ممکن نہیں۔ اس جگہ یاد رہے کہ قرآن شریف صرف سماع کی حد تک محدود نہیں ہے کیونکہ اس میں انسانوں کے سمجھانے کے لئے بڑے بڑے معقول دلائل ہیں اور جس قدر عقائد اور اصول اور احکام اس نے پیش کئے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا امر نہیں جس میں زبردستی اور تحکم ہو جیسا کہ اس نے خود فرما دیا ہے کہ یہ سب عقائد وغیرہ انسان کی فطرت میں پہلے سے منقوش ہیں اور قرآن شریف کا نام ذکر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے ھذا ذکر مبارک یعنی یہ قرآن بابرکت کوئی نئی چیز نہیں لایا بلکہ جو کچھ انسان کی فطرت اور صحیفہ قدرت میں بھرا پڑا ہے اس کو یاد دلاتا ہے اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔ یعنی یہ دین کوئی بات جبر سے منوانا نہیں چاہتا بلکہ ہر ایک بات کے دلائل پیش کرتا ہے۔ ماسوا اس کے قرآن میں دلوں کو روشن کرنے کے لئے ایک روحانی خاصیت بھی ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ یعنی قرآن اپنی خاصیت سے تمام بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ اس لئے اس کو منقولی کتاب نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کے معقول دلائل اپنے ساتھ رکھتا ہے اور ایک چمکتا ہوا نور اس میں پایا جاتا ہے۔ ایسا ہی عقلی دلائل جو صحیح مقدمات سے مستنبط ہوئے ہوں بلاشبہ علم الیقین تک پہنچاتے ہیں۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ آیات مندرجہ ذیل میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ کہتا ہے۔