پانچواں سوال
یہ ہے کہ
علم اورمعرفت کے ذریعے کیا کیا ہیں؟۱
اس سوال کے جواب میں واضح ہو کہ اس بارے
میں جس قدر قرآن شریف نے مبسوط طور پر ذکر فرمایا ہے۔ اس کے ذکر کرنے کی تو اس جگہ کسی طرح گنجائش نہیں لیکن بطور نمونہ کسی قدر بیان کیا جاتا ہے۔ سو جاننا چاہئے کہ قرآن شریف نے
علم تین قسم پر قرار دیا ہے۔ (۱)علم الیقین(۲) عین ا لیقین(۳) حق الیقین۔ جیسا کہ ہم پہلے اس سے سورہ اَلْھَاکم التکاثر کی تفسیر میں ذکر کر چکے ہیں اور بیان کر چکے ہیں کہ علم الیقین وہ
ہے کہ شئے مقصود کا کسی واسطہ کے ذریعہ سے نہ بلا واسطہ پتہ لگایا جائے۔ جیسا کہ ہم دھوئیں سے آگ کے وجود پر استدلال کرتے ہیں ہم نے آگ کو دیکھا نہیں مگر دھوئیں کو دیکھا ہے کہ جس
سے ہمیں آگ کے وجود پر یقین آیا۔ سو یہ علم الیقین ہے اور اگر ہم نے آگ کو ہی دیکھ لیا ہے تو یہ بموجب بیان قرآن شریف یعنی سورہ اَلْھَاکم التکاثر کے علم کے مراتب میں سے عین الیقین کے نام سے
موسوم ہے۔ اور اگر ہم اس آگ میں داخل بھی ہوگئے ہیں تو اس علم کے مرتبہ کا نام قرآن شریف کے بیان کی رو سے حق الیقین ہے۔ سورہ اَلھٰکم التکاثر کے اب دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ناظرین
اس موقع سے اس تفسیر کو دیکھ لیں۔
اب جاننا چاہئے کہ پہلی قسم کا جو علم ہے یعنی علم الیقین۔ اس کا ذریعہ عقل اور منقولات ہیں۔ اللہ تعالیٰ دوزخیوں سے حکایت کر کے فرماتا ہے۔