میں کوئی الہام یافتہ پیدا نہیں ہوا تھا اس لئے تمام دنیا نے اپنی حالت کو خراب کر دیا تھا۔ ہر ایک ملک کی تاریخیں پکار پکار کر
کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں مگر آپ کے ظہور سے پہلے تمام دنیا میں خیالات فاسدہ پھیل گئے تھے۔ ایسا کیوں ہوا تھا اور اس کا کیا سبب تھا؟ یہی تو تھا کہ الہام کا
سلسلہ مدتوں تک بند ہوگیا تھا۔ آسمانی سلطنت صرف عقل کے ہاتھ میں تھی۔ پس اس ناقص عقل نے کن کن خرابیوں میں لوگوں کو ڈالا، کیا اس سے کوئی ناواقف بھی ہے۔ دیکھو الہام کا پانی جب مدت تک
نہ برسا تو تمام۱ عقلوں کا پانی کیسا خشک ہوگیا۔
سو ان قسموں میں یہی قانون قدرت اللہ تعالیٰ پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم غور کر کے دیکھو کہ کیا خدا کا یہ محکم۲ اور دائمی قانون قدرت
نہیں کہ زمین کی تمام سرسبزی کا مدار آسمان کا پانی ہے۔ سو اس پوشیدؔ ہ قانون قدرت کے لئے جو الہام الٰہی کا سلسلہ ہے۔ یہ کھلا کھلا قانون قدرت بطور گواہ کے ہے۔ سو اس گواہ سے فائدہ اٹھاؤ
اور صرف عقل کو اپنا رہبر مت بناؤ کہ وہ ایسا پانی نہیں جو آسمانی پانی کے سوا موجود رہ سکے۔ جس طرح آسمانی پانی کا یہ خاصہ ہے کہ خواہ کسی کنویں میں اس کا پانی پڑے یا نہ پڑے وہ اپنی
طبعی خاصیت سے تمام کنوؤں کے پانی کو اوپر چڑھا دیتا ہے۔ ایسا ہی جب خدا کا ایک الہام یافتہ دنیا میں ظہور فرماتا ہے خواہ کوئی عقلمند اس کی پیروی کرے یا نہ کرے۔ مگر اس الہام یافتہ کے
زمانہ میں خود عقلوں میں ایسی روشنی اور صفائی آ جاتی ہے کہ پہلے اس سے موجود نہ تھی۔ لوگ خواہ نخواہ حق کی تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں اور غیب سے ایک حرکت ان کی قوت متفکرہ میں
پیدا ہو جاتی ہے۔ سو یہ تمام عقلی ترقی اور دلی جوش اس الہام یافتہ کے قدم مبارک سے پیدا ہو جاتاہے اور بالخاصیت زمین کے پانیوں کو اوپر اٹھاتا ہے جب تم دیکھو کہ مذاہب کی جستجو میں ہر ایک
شخص کھڑا ہوگیا ہے اور زمینی پانی کو کچھ ابال آیا ہے تو اٹھو اور خبردار ہو جاؤ اور یقیناً سمجھو کہ آسمان سے زور کا مینہْ برسا ہے اور کسی دل پر الہامی بارش ہوگئی ہے۔فقط