یعنی خدا وہ خدا ہے کہ جس نے ہر ایک شے کے مناسب حال اس کو پیدائش بخشی۔ پھر اس شیکو اپنے کمالات مطلوبہ حاصل کرنے کے لئے راہ دکھلا دی۔ اب اگر اس آیت کے مفہوم پر نظر رکھ کر انسان سے لے کر تمام بحری اور برّی جانوروں اور پرندوں کی بناوٹ تک دیکھا جائے تو خدا کی قدرت یاد آتی ہے کہ ہر ایک چیز کی بناوٹ اس کے مناسب حال معلوم ہوتی ہے۔ پڑھنے والے خود سوچ لیں کیونکہ یہ مضمون بہت وسیع ہے۔ دوسری دلیل خدا تعالیٰ کی ہستی پر قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کا علت العلل ہونا قرار دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ یعنی تمام سلسلہ علل و معلولات کا تیرے رب پر ختم ہو جاتا ہے۔ تفصیل اس دلیل کی یہ ہے کہ نظر تعمّق سے معلوم ہوگا کہ یہ تمام موجودات علل و معلول کے سلسلہ سے مربوط ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں طرح ؔ طرح کے علوم پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ کوئی حصہ مخلوقات کا نظام سے باہر نہیں۔ بعض بعض کے لئے بطور اصول اور بعض بطور فروع کے ہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ علّت یا تو خود اپنی ذات سے قائم ہوگی یا اس کا وجود کسی دوسری علّت کے وجود پر منحصر ہوگا۔ اور پھر یہ دوسری علّت کسی اور علت پر، وعلیٰ ہذا القیاس۔ اور یہ تو جائز نہیں کہ اس محدود دنیا میں علل و معلول کا سلسلہ کہیں جاکر ختم نہ ہو اور غیر متناہی ہو۔ تو بالضرورت ماننا پڑا کہ یہ سلسلہ ضرور کسی اخیر علت پر جاکر ختم ہو جاتا ہے۔ پس جس پر اس تمام سلسلہ کا انتہاء ہے وہی خدا ہے۔ آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ آیت 3 اپنے مختصر لفظوں میں کس طرح اس دلیل مذکورہ بالا کو بیان فرما رہی ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ انتہاء تمام سلسلہ کی تیرے رب تک ہے۔ پھر ایک اور دلیل اپنی ہستی پر یہ دی جیسا کہ فرماتا ہے۔