اور جب طبعی حالتوں سے نکال کر اخلاق فاضلہ کے محل عالی تک پہنچایا تو فقط اسی پر کفایت نہ کی بلکہ اور مرحلہ جو
باقی تھا یعنی روحانی حالتوں کا مقام۔ اس تک پہنچنے کے لئے پاک معرفت کے دروازے کھول دئیے اور نہ صرف کھول دئیے بلکہ لاکھوں انسانوں کو اس تک پہنچا بھی دیا۔ اور اس طرح پر تینوں قسم کی
تعلیم جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کمال خوبی سے بیان فرمائی۔ پس چونکہ وہ تمام تعلیموں کا جن پر دینی تربیت کی ضرورتوں کا مدار ہے کامل طور پر جامع ہے۔ اس لئے یہ دعویٰ اس نے کیا کہ
میں نے دائرہ دینی تعلیم کو کمال تک پہنچایا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔
یعنی آج میں نے دین تمہارا کامل کیا۔ اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا اور میں تمہارا دین اسلام ٹھہرا کر خوش ہوا۔ یعنی دین کا
انتہائی مرتبہ وہ امر ہے جو اسلام کے مفہوم میں پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ محض خدا کے لئے ہو جانا اور اپنی نجات اپنے وجود کی قربانی سے چاہنا نہ اور طریق سے اور اس نیت اور اس ارادہ کو
عملی طور پر دکھلا دینا۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر تمام کمالات ختم ہوتے ہیں۔ پس جس خدا کو حکیموں نے شناخت نہ کیا قرآن نے اُس سچے خدا کا پتہ بتایا۔ قرآن نے خدا کی معرفت عطا کرنے کے لئے دو
طریق رکھے ہیں۔ اول وہ طریق جس کی رو سے انسانی عقل عقلی دلائل پیدا کرنے میں بہت قوی اور روشن ہو جاتی ہے اور غلطی کرنے سے بچ جاتی ہے۲ اور دوسرا روحانی طریق جس کو ہم
تیسرے سوال کے جواب میں عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے۔
دلائل ہستی باری تعالیٰ
اب دیکھو کہ عقلی طور پر قرآن شریف نے خدا کی ہستی پر کیا کیا عمدہ اور بے مثل دلائل دئیے ہیں۔
جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے۔