یعنی آفتاب چاند کو پکڑ نہیں سکتا اور نہ رات جو مظہر ماہتاب ہے دن پر جو مظہر آفتاب ہے کچھ تسلط کر سکتی ہے۔ یعنی کوئی ان میں سے اپنی حدود مقررہ سے باہر نہیں جاتا۔ اگر ان کا کوئی مد ّ بر درپردہ نہ ہو تو یہ تمام سلسلہ درہم برہم ہو جائے۔ یہ دلیل ہیئت پر غور کرنے والوں کے لئے نہایت فائدہ بخش ہے کیونکہ اجرام فلکی کے اتنے بڑے عظیم الشان اور بے شمار گولے ہیں جن کے تھوڑے سے بگاڑ سے تمام دنیا تباہ ہو سکتی ہے۔ یہ کیسی قدرت حق ہے کہ وہ آپس میں نہ ٹکراتے ہیں نہ بال بھر رفتار بدلتے اور نہ اتنی مدت تک کام دینے سے کچھ گھسے اور نہ ان کی کلوں ُ پرزوں میں کچھ فرق آیا۔ اگر سر پر کوئی محافظ نہیں تو کیونکر اتنا بڑا کارخانہ بے شمار برسوں سے خودبخود چل رہا ہے۔ انہیں حکمتوں کی طرف اشارہ کر کے خدا تعالیٰ دوسرے مقام میں فرماتا ہے۔ یعنی کیا خدا کے وجود میں شک ہو سکتا ہے جس نے ایسے آسمان اور ایسی زمین بنائی۔ پھر ایک اور لطیف دلیل اپنی ہستی پر فرماتا ہے اور وہ یہ ہے۔ یعنی ہر ایک چیزَ معرضِ زوال میں ہے اور جو باقی رہنے والا ہے وہ خدا ہے جو جلال والا اور بزرگی والا ہے۔ اب دیکھو کہ اگر ہم فرض کرلیں کہ ایسا ہو کہ زمین ذرہ ذرہ ہو جائے اور اجرام فلکی بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور ان پر معدوم کرنے والی ایک ایسی ہوا چلے جو تمام نشان ان چیزوں کے مٹادے۔ مگر پھر بھی عقل اس بات کو مانتی اور قبول کرتی ہے۔ بلکہ صحیح کانشنس اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ اس تمام نیستی کے بعد بھی ایک چیز باقی رہ جائے جس پر