چشمہ سے مالا مال کرنے کو تیار ہے جیسا کہ پہلے تھا اور اب بھی اس کے فیضان کے ایسے دروازے کھلے ہیں جیسے کہ
پہلے تھے۔ ہاں ضرورتوں کے ختم ہونے پر شریعتیں اور حدود ختم ہوگئے اور تمام رسالتیں اور نبوتیں اپنے آخری نقطہ پر آکر جو ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا۔ کمال کو پہنچ
گئیں۔
آنحضرت ﷺکے عرب سے ظاہر ہونے میں حکمت
اس آخری نور کا عرب سے ظاہر ہونا بھی خالی حکمت سے نہ تھا۔ عرب وہ بنی اسماعیل کی قوم تھی جو اسرائیل سے منقطع ہو کر حکمت
الٰہی سے بیابانِ فاران میں ڈال دی گئی تھی اور فاران کے معنی ہیں دو فرار کرنے والے یعنی بھاگنے والے۔ پس جن کو خود حضرت ابراہیمؑ نے بنی اسرائیل سے علیحدہ کر دیا تھا اُن کا توریت کی
شریعت میں کچھ حصہ نہیں رہا تھا۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ وہ اسحاقؑ کے ساتھ حصہ نہیں پائیں گے۔ پس تعلق والوں نے انہیں چھوڑ دیا اور کسی دوسرے سے ان کا تعلق اور رشتہ نہ تھا۔ اور دوسرے
تمام ملکوں میں کچھ کچھ رسوم عبادات اور احکام کی پائی جاتی تھیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ کسی وقت ان کو نبیوں کی تعلیم پہنچی تھی۔ مگر صرف عرب کا ملک ہی ایک ایسا ملک تھا جو ان تعلیموں سے
محض ناواقف تھا اور تمام جہان سے پیچھے رہا ہوا تھا۔ اس لئے آخر میں اُس کی نوبت آئی اور اس کی نبوت عام ٹھہری تا تماؔ م ملکوں کو دوبارہ برکات کا حصہ دیوے اور جو غلطی پڑ گئی تھی اس
کو نکال دے۔ پس ایسی کامل کتاب کے بعد کس کتاب کا انتظار کریں جس نے سارا کام انسانی اصلاح کا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پہلی کتابوں کی طرح صرف ایک قوم سے واسطہ نہیں رکھا۔ بلکہ تمام
قوموں کی اصلاح چاہی اور انسانی تربیت کے تمام مراتب بیان فرمائے۔ وحشیوں کو انسانیت کے آداب سکھائے۔ پھر انسانی صورت بنانے کے بعد اخلاق فاضلہ کا سبق دیا۔
قرآن کریم کا دنیا پر
احسان
یہ قرآن نے ہی دنیا پر احسان کیا کہ طبعی حالتوں اور اخلاق فاضلہ میں فرق کر کے دکھلایا۔