خلق کی مد میں داخل کی جائیں گی جبکہ عقل کے زیر سایہ ہوکر اپنے محل پر صادر ہوں یا صادر ہونے کی قابلیت پیدا کرلیں۔ لہذا جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ بچے اور نامرد اور ایسے لوگ جو کسی تدبیر سے اپنے تئیں نامرد کرلیں اس خلق کا مصداق نہیں ٹھہر سکتے گو بظاہر عفت اور احصان کے رنگ میں اپنی زندگی بسر کریں بلکہ تمام صورتوں میں ان کی عفت اور احصان کا نام طبعی حالت ہوگا نہ اور کچھ۔ اور چونکہ یہ ناپاک حرکت اور اس کے مقدمات جیسے مرد سے صادر ہو سکتے ہیں۔ ویسے ہی عورت سے بھی صادر ہو سکتے ہیں لہذا خدا کی پاک کتاب میں دونوں مرد اور عورت کیلئے یہ تعلیم فرمائی گئی ہے۔ یعنی ایمانداروں کو جو مرد ہیں کہہ دے کہ آنکھوں کو نامحرم عورتوں کے دیکھنے سے بچائے رکھیں اور ایسی عورتوں کو کھلے طور سے نہ دیکھیں جو شہوت کا محل ہو سکتی ہوں اور ایسے موقعہ پر خوابیدہ نگاہ کی عادت پکڑیں اور اپنے ستر کی جگہ کو جس طرح ممکن ہو بچاویں۔ ایسا ہی کانوں کو نا محرموں سے بچاویں یعنی بیگانہ عورتوں کے گانے بجانے اور خوش الحانی کی آوازیں نہ سنیں۔ ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔ یہ طریق پاک نظر اور پاک دل رہنے کیلئے عمدہ طریق ہے۔ ایسا ہی ایماندار عورتوں کو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نامحرم مردوں کے دیکھنے سے بچائیں اور اپنے کانوں کو بھی نامحرموں