سے بچائیں یعنی ان کی ُ پرشہوت آوازیں نہ سنیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں ۔اور اپنی زینت کے اعضاء کو
کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہوکر سر پر آجائے یعنی گریبان اور دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے پردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کو
زمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔ یہ وہ تدبیر ہے کہ جس کی پابندی ٹھوکر سے بچا سکتی ہے۔
اور دوسرا طریق بچنے کیلئے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اس سے دعا کریں
تا ٹھوکر سے بچاوے اور لغزشوں سے نجات دے۔ زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ
کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زناؔ کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راہ بہت بری راہ ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کیلئے سخت خطرناک ہے۔ اور جس
کو نکاح میسر نہ آوے چاہئے کہ وہ اپنی عفت کو دوسرے طریقوں سے بچاوے۔ مثلاً روزہ رکھے یا کم کھاوے یا اپنی طاقتوں سے تن آزار کام لے اور اور لوگوں نے یہ بھی طریق نکالے ہیں کہ وہ ہمیشہ
عمداً نکاح سے دست بردار رہیں یا خوجے بنیں اور کسی طریق سے رہبانیت اختیار کریں۔ مگر ہم نے انسان پر یہ حکم فرض نہیں کئے اس لئے وہ ان بدعتوں کو پورے طور پر نبھا نہ سکے۔ خدا کا یہ
فرمانا کہ ہمارا یہ حکم نہیں کہ لوگ خوجے بنیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اگر خدا کا حکم ہوتا تو سب لوگ اس حکم پر عمل کرنے کے مجاز بنتے تو اس صورت میں بنی آدم کی قطع نسل
ہوکر کبھی کا دنیا کا خاتمہ ہو جاتا۔ اور نیز اگر اس طرح پر عفت حاصل کرنی ہو کہ عضو مردمی کو کاٹ دیں تو یہ درپردہ اس صانع پر اعتراض ہے جس نے وہ عضو بنایا اور نیز جبکہ ثواب کا تمام
مدار اس بات پرہے کہ ایک قوت موجود ہو اور پھر انسان خدا تعالیٰ کا خوف کر کے اس قوت کے خراب جذبات کا مقابلہ کرتا رہے۔ اور اس کے منافع سے فائدہ اٹھا کر دو طور کا ثواب حاصل کرے۔ پس
ظاہر ہے کہ ایسے عضو کے ضائع کر دینے میں دونوں ثوابوں سے محروم رہا۔ ثواب تو جذبہ مخالفانہ کے وجود اور پھر اس کے مقابلہ سے ملتا ہے۔ مگر جس میں بچہ کی طرح وہ قوت ہی نہیں رہی
اس کو کیا ثواب ملے گا۔ کیا بچہ کو اپنی عفت کا ثواب