محفوظ رہنے کا فائدہ پہنچا سکے یا اس کو ایسی سزا دے سکے جو حقیقت میں اس کیلئے سراسر رحمت ہے۔ اخلاق متعلق ترکِ شر اب واضح ہو کہ وہ اخلاق جو ترک شر کیلئے صانع حقیقی نے مقرر فرمائے ہیں وہ زبان عربی میں جو تمام انسانی خیالات اور اوضاع اور اخلاق کے اظہار کیلئے ایک ایک مفرد لفظ اپنے اندر رکھتی ہے۔ چار ناموں سے موسوم ہیں۔ چنانچہ پہلاُ خلق احصان کے نام سے موسوم ہے اور اس لفظ سے مراد خاص وہ پاک دامنی ہے جو مرد اور عورت کی قوت تناسل سے علاقہ رکھتی ہے اور محصن یا محصنہ اس مرد یا اس عورت کو کہا جائے گاکہ جو حرام کاری یا اس کے مقدمات سے مجتنب رہ کر اس ناپاک بدکاری سے اپنے تئیں روکیں جس کا نتیجہ دونوں کیلئے اس عالم میں ذلت اور *** اور دوسرے جہان میں عذاب آخرت اور متعلقین کیلئے علاوہ بے آبروئی نقصان شدید ہے۔ مثلاً جو شخص کسی کی بیوی سے ناجائز حرکت کا مرتکب ہو یا مثلاً زنا تو نہیں مگر اس کے مقدمات مرد اور عورت دونوں سے ظہور میں آویں تو کچھ شک نہیں کہ اس غیرت مند مظلوم کی ایسی بیوی کو جو زنا کرانے پر راضی ہوگئی تھی یا زنا بھی واقع ہو چکا تھا۔ طلاق دینی پڑے گی اور بچوں پر بھی اگر اس عورت کے پیٹ سے ہوں گے بڑا تفرقہ پڑے گا اور مالک خانہ یہ تمام نقصان اس بدذات کی وجہ سے اٹھائے گا۔ اس جگہ یاد رہے کہ یہُ خلق جس کا نام احصان یا عفت ہے یعنی پاکدامنی۔ یہ اسی حالت میںُ خلق کہلائے گا جبکہ ایسا شخص جو بدنظری یا بدکاری کی استعداد اپنے اندر رکھتا ہے یعنی قدرت نے وہ قویٰ اس کو دے رکھے ہیں جن کے ذریعہ سے اس جرم کا ارتکاب ہو سکتا ہے۔ اس فعل شنیع سے اپنے تئیں بچائے اور اگر بباعث بچہ ہونے یا نامرد ہونے یا خوجہ ہونے یا پیر فرتوت ہونے کے یہ قوت اس میں موجود نہ ہو تو اس صورت میں ہم اس کو اسُ خلق سے جس کا نام احصان یا عفت ہے موصوف نہیں کر سکتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ عفت اورؔ احصان کی اس میں ایک طبعی حالت ہے۔ مگر ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ طبعی حالتیں خلق کے نام سے موسوم نہیں ہو سکتیں۔ بلکہ اس وقت