بھی کھانے والے کو اپنے رنگ میں لاتا ہے اور نیز ظاہری صحت کیلئے بھی مضر ہے۔ اور جن جانوروں کا خون اندر ہی رہتا ہے جیسے گلا گھونٹا ہوا یا لاٹھی سے مارا ہوا۔ یہ تمام جانور درحقیقت مردار کے حکم میں ہی ہیں۔ کیا مردہ کا خون اندر رہنے سے اپنی حالت پر رہ سکتا ہے؟ نہیں بلکہ وہ بوجہ مرطوب ہونے کے بہت جلد گندہ ہوگا اور اپنی عفونت سے تمام گوشت کو خراب کرے گا اور نیز خون کے کیڑے جو حال کی تحقیقات سے بھی ثابت ہوئے ہیں۔ مر کر ایک زہر ناک عفونت بدن میں پھیلا دیں گے۔ انسان کی اخلاقی حالتیں دوسرا حصہ قرآنی اصلاح کا یہ ہے کہ طبعی حالتوں کو شرائط مناسبہ کے ساتھ مشروط کر کے اخلاق فاضلہ تک پہنچایا جائے۔ سو واضح ہو کہ یہ حصہ بہت بڑا ہے۔ اگر ہم اس حصہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کریں یعنی تمام وہ اخلاق اس جگہ لکھنا چاہیں جو قرآن شریف نے بیان کئے تو یہ مضمون اس قدر لمبا ہو جائے گا کہ وقت اس کے دسویں حصہ تک کو بھی کفایت نہیں کرے گا۔ اس لئے چند اخلاق فاضلہ نمونے کے طور پر بیان کئے جاتے ہیں۔ اب جاننا چاہئے کہ اخلاق دو قسم کے ہیں۔ اول وہ اخلاق جن کے ذریعہ سے انسان ترکِ شر پر قادر ہوتا ہے۔ دوسرے وہ اخلاق جن کے ذریعہ سے انسان ایصالِ خیر پر قادر ؔ ہوتا ہے اور ترکِ شر کے مفہوم میں وہ اخلاق داخل ہیں۔ جن کے ذریعہ سے انسان کوشش کرتا ہے کہ تا اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنی آنکھ یا اپنے کسی اور عضو سے دوسرے کے مال یا عزت یا جان کو نقصان نہ پہنچاوے یا نقصان رسانی اور کسر شان کا ارادہ نہ کرے اور ایصالِ خیر کے مفہوم میں تمام وہ اخلاق داخل ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کوشش کرتا ہے کہ اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنے مال یا اپنے علم یا کسی اور ذریعہ سے دوسرے کے مال یا عزت کو فائدہ پہنچا سکے۔ یا اس کے جلال یا عزت ظاہر کرنے کا ارداہ کر سکے۔ یا اگر کسی نے اس پر کوئی ظلم کیا تھا تو جس سزا کا وہ ظالم مستحق تھا اس سے درگذر کرسکے اور اس طرح اس کو دکھ اور عذابِ بدنی اور تاوانِ مالی سے