کہنے لگا کہ مہاراج آپ جانتے ہیں کہ وید میں وقت ضرورت نیوگ کیلئے آگیا ہے۔ سو میں نے بہت دنوں سوچ کر رات کو نیوگ
کرایا تھا مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے نیوگ کے لئے مہرسنگھ کو بلالیا پیچھے معلوم ہوا کہ وہ میرے دشمن کرم سنگھ کا بیٹا اور نہایت شریر آدمی ہے وہ مجھے اور میری استری کو ضرور خراب
کرے گا اور وہ وعدہ کر گیا ہے کہ میں یہ ساری کیفیت خوب شائع کروں گا نہال چند بولا کہ درحقیقت بڑی غلطی ہوئی اور پھر بولا کہ وساوامل تیری سمجھ پر نہایت ہی افسوس ہے کیا تجھے معلوم
نہ تھا کہ نیوگ کے لئے پہلا حق برہمنوں کا ہے اور غالباً یہ بھی تجھ پر پوشیدہ نہیں ہوگا کہ اس محلہ کی تمام کھترانی عورتیں مجھ سے ہی نیوگ کراتی ہیں اور میں دن رات اسی سیوا میں لگا ہوا ہوں
پھر اگر تجھے نیوگ کی ضرورت تھی تو مجھے بلا لیا ہوتا سب کام سدّھ ہو جاتا اور کوئی بات نہ نکلتی اس محلہ میں اب تک تین ہزار کے قریب ہندو عورتوں نے نیوگ کرایا ہے مگر کیا کبھی تم نے اس کا
ذکر بھی سنا یہ پردہ کی باتیں ہیں سب کچھ ہوتا ہے پھر ذکر نہیں کیا جاتا لیکن مہر سنگھ تو ایسا نہیں کرے گا ذرہ دو چار گھنٹوں تک دیکھنا کہ سارے شہر میں رام دئی کے نیوگ کا شوروغوغا ہوگا۔ لالہ
دیوث بولا کہ درحقیقت مجھ سے سخت غلطی ہوئی اب کیا کروں۔ اس وقت شریر پنڈت نے جو بباعث نہ ہونے رسم پردہ کے رام دئی کو دیکھ چکا تھا کہ جوان اور خوش شکل ہے نہایت بے حیائی کا
جواب دیا۔ کہ اگر اسی وقت رام دئی مجھ سے نیوگ کرے تو میں ذمہ وار ہوتا ہوں کہ مہر سنگھ کے فتنہ کو میں سنبھال لوں گا اور پہلا حمل ایک شکی بات ہے اب بہرحال یقینی ہو جائے گا تب وساوامل
دیوث تو اس بات پر بھی راضی ہوگیا مگر رام دئی نے سنکر سخت گالیاں اس کو نکالیں تب وساوامل نے پنڈت کو کہا کہ مہاراج اس کا یہی حال ہے ہرگز نیوگ کرنا نہیں چاہتی پہلے بھی مشکل سے
کرایا تھا جس کو یادؔ کر کے اب تک رو رہی ہے کہ میرا منہ کالا کیا اسی سے تو اس نے چیخیں ماری تھیں جن کو آپ سن کر دوڑے آئے تب وہ شہوت پرست پنڈت وساوامل کی یہ بات سن کر رام دئی
کی طرف متوجہ ہوا اور کہا نہیں بھاگوان نیوگ کو برا نہیں ماننا چاہئے یہ وید آگیا ہے مسلمان بھی تو عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورتیں کسی دوسرے سے نکاح کرلیتی ہیں سو جیسے طلاق
جیسے نیوگ بات ایک ہی ہے