کہ میں اس فتح عظیم کو چھپا نہیں سکتا کہ جو آج وساوامل کے مقابل پر مجھے حاصل ہوئی۔ میں ضرور رام دئی کا سارا نقشہ
محلہ کے لوگوں پر ظاہر کروں گا سو یاد رکھ کہ وہ ہریک مجلس میں تیرا ناک کاٹے گا اور ہریک لڑائی میں یہ قصہ تجھے جتائے گا اور اس سے کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعوے کر دے کہ رام دئی میری
ہی عورت ہے کیونکہ وہ اشارہ سے یہ کہہ بھی گیا ہے کہ آئندہ بھی میں تجھے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ لالہ دیوث نے کہا کہ نکاح کا دعویٰ ثابت ہونا تو مشکل ہے البتہ یارانہ کا اظہار کرے تو کرے تا
ہماری اور بھی رسوائی ہو بہتر تو یہ ہے کہ ہم دیش ہی چھوڑ دیں۔ بیٹا ہونے کا خیال تھا وہ تو ایشر نے دے ہی دیا بیٹے کا نام سن کر عورت زہر خندہ ہنسی اور کہا کہ تجھے کس طرح اور کیونکر یقین
ہوا کہ ضرور بیٹا ہوگا اول تو پیٹ ہونے میں ہی شک ہے اور پھر اگر ہو بھی تو اس بات پر کوئی دلیل نہیں کہ لڑکا ہی ہوگا کیا بیٹا ہونا کسی کے اختیار میں رکھا ہے کیا ممکن نہیں کہ حمل ہی خطا جائے
یا لڑکی پیدا ہو لالہ دیوث بولے کہ اگر حمل خطا گیا تو میں کھڑک سنگھ کو جو اسی محلہ میں رہتا ہے نیوگ کے لئے بلا لاؤں گا عورت نہایت غصہ سے بولی کہ اگر کھڑک سنگھ بھی کچھ نہ کر سکا تو
پھر کیا کرے گا لالہ بولا کہ تو جانتی ہے کہ نرائن سنگھ بھی ان دونوں سے کم نہیں اس کو بلا لاؤں گا۔ پھر اگر ضرورت پڑی تو جیملؔ سنگھ، لہنا سنگھ، بوڑ سنگھ، جیون سنگھ، صوبا سنگھ، خزان
سنگھ، ارجن سنگھ، رام سنگھ، کشن سنگھ، دیال سنگھ سب اس محلہ میں رہتے ہیں اور زور اور قوت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں میرے کہنے پر سب حاضر ہو سکتے ہیں عورت بولی کہ میں اس
سے بہتر تجھے صلاح دیتی ہوں کہ مجھے بازار میں ہی بٹھا دے تب دس۱۰ بیس کیا ہزاروں لاکھوں آ سکتے ہیں منہ کالا جو ہونا تھا وہؔ تو ہو چکا مگر یاد رکھ کہ بیٹا ہونا پھر بھی اپنے بس میں نہیں
اور اگر ہوا بھی تو تجھے اس سے کیا جس کا وہ نطفہ ہے آخر وہ اسی کا ہوگا اور اسی کی خو بو لائے گا کیونکہ درحقیقت وہ اسی کا بیٹا ہے اس کے بعد رام دئی نے کچھ سوچ کر پھر رونا شروع کیا
اور دور دور تک آواز گئی اور آواز سن کر ایک پنڈت نہال چند نام دوڑا آیا اور آتے ہی کہا کہ لالہُ سکھ تو ہے یہ کیسی رونے کی آواز آئی۔ لالہ ناک کٹا چاہتا تو نہیں تھا کہ نہال چند کے آگے قصہ بیان
کرے مگر اس خوف سے کہ رام دئی اس وقت غصہ میں ہے اگر میں بیان نہ کروں تو وہ ضرور بیان کردے گی کچھ کھسیانا ہوکر زبان دباکر