پر کچھ اعتقاد رکھتا تھا اس نے صرف لالہ دیوث کی حماقت کی باتیں سن کر اس کے خوش کرنے کے لئے ہاں میں ہاں ملا دی
مگر اپنے دل میں بہت ہنسا کہ اس دیوث کی پتر لینے کے لئے کہاں تک نوبت پہنچ گئی پھر اس کے بعد مہر سنگھ تو رخصت ہوا اور لالہ گھر کی طرف خوش خوش آیا اور اسے یقین تھا کہ اس کی
استری رام دئی بہت ہی خوشی کی حالت میں ہوگی کیونکہ مراد پوری ہوئی۔ لیکن اس نے اپنے گمان کے برخلاف اپنی عورت کو روتے پایا اور اس کو دیکھ کر تو وہ بہت ہی روئی یہاں تک کہ چیخیں نکل
گئیں۔ اور ہچکی آنی شروع ہوئی۔ لالہ نے حیران سا ہو کر اپنی عورت کو کہا کہ ’’ہے بھاگوان آج تو خوشی کا دن ہے کہ دل کی مرادیں پوری ہوئیں اور بیج ٹھہر گیا پھر تو روتی کیوں ہے؟ وہ بولی
میں کیوں نہ روؤں تو نے سارے کنبے میں میری مٹی پلید کی اور اپنی ناک کاٹ ڈالی اور ساتھ ہی میری بھی اس سے بہتر تھا کہ میں پہلے ہی مرجاتی۔ لالہ دیوث بولا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر اب بچہ
ہونے کی بھی کس قدر خوشی ہوگی وہ خوشیاں بھی تو تُو ہی کرے گی مگر رام دئی شاید کوئی نیک اصل کی تھی اس نے ُ ترت جواب دیا کہ حرام کے بچہ پر کوئی حرام کا ہی ہو تو خوشی مناوے لالہ تیز
ہو کر بولا کہ ہے ہے کیا کہہ دیا یہ تو وید آگیا ہے عورت کو یہ بات سن کر آگ لگ گئی بولی میں نہیں سمجھ سکتی کہ یہ کیسا وید ہے جو بدکاری سکھلاتا اور زنا کاری کی تعلیم دیتا ہے یوں تو دنیا کے
مذاہب ہزاروں باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں سنا کہ کسی مذہب نے وید کے سوا ؔ یہ تعلیم بھی دی ہو کہ اپنی پاک دامن عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر کراؤ۔ آخر مذہب پاکیزگی
سکھلانے کے لئے ہوتا ہے نہ بدکاری اور حرام کاری میں ترقی دینے کے لئے۔ جب رام دئی یہ سب باتیں کہہ چکی تو لالہ نے کہا کہ چپ رہو اب جو ہوا سو ہوا۔ ایسا نہ ہو کہ شریک سنیں اور میرا ناک
کاٹیں۔ رام دئی نے کہا کہ اے بے حیا کیا ابھی تک تیرا ناک تیرے منہ پر باقی ہے ساری رات تیرے شریک نے جو تیرا ہمسایہ اور تیرا پکا دشمن ہے تیری سہروں کی بیاہتا اور عزت کے خاندان والی سے
تیرے ہی بستر پر چڑھ کر تیرے ہی گھر میں خرابی کی اور ہریک ناپاک حرکت کے وقت جتا بھی دیا کہ میں نے خوب بدلا لیا۔ سو کیا اس بے غیرتی کے بعد بھی تو جیتا ہے۔ کاش تو اس سے پہلے ہی مرا
ہوتا۔ اب وہ شریک اور پھر دشمن باتیں بنانے اور ٹھٹھا کرنے سے کب باز رہے گا بلکہ وہ تو کہہ گیا ہے