ایک معزّ ز آریہ کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی دوسری شادی کر نہیں سکتا کہ وید کی رو سے حرام ہے آخر نیوگ کی ٹھہرتی ہے
یار دوست مشورہ دیتے ہیں کہ لالہ صاحب نیوگ کرائیے اولاد بہت ہو جائے گی ایک بول اٹھتا ہے کہ مہرسنگھ جو اسی محلہ میں رہتا ہے اس کام کے بہت لائق ہے لالہ بہاری لال نے اس سے نیوگ
کرایا تھا لڑکا پیدا ہوگیا۔ یہ لالہ لڑکا پیدا ہونے کا نام سن کر باغ باغ ہوگیا۔ بولا مہاراج آپ ہی نے سب کام کرنے ہیں میں تو مہر سنگھ کا واقف بھی نہیں۔ مہاراج شریر النفس بولے کہ ہاں ہم سمجھا دیں
گے رات کوآجائے گا۔ مہرسنگھ کو خبر دی گئی وہ محلہ میں ایک مشہور قمار باز اول نمبر کا بدمعاش اور حرام کار تھا۔ سنتے ہی بہت خوش ہوگیا اور انہیں کاموں کو وہ چاہتا تھا پھر اس سے زیادہ اس
کو کیا چاہئے تھا۔ ایک نوجوان عورت اور پھر خوبصورت شام ہوتے ہی آ موجود ہوا۔ لالہ صاحب نے پہلے ہی دلالہ عورتوں کی طرح ایک کوٹھری میں نرم بستر بچھوا رکھا تھا اور کچھ دودھ اور حلوا
بھی دو برتنوں میں سرہانے کی طاق میں رکھوا دیا تھا تا اگر بیرج داتا کو ضعف ہو تو کھاپی لیوے۔ پھر کیا تھا آتے ہی بیرج داتا نے لالہ دیوث کے نام و ناموس کا شیشہ توڑ دیا اور وہ بدبخت عورت تمام
رات اس سے منہ کالا کراتی رہی اور اس پلید نے جو شہوت کا مارا تھا نہایت قابل شرم اس عورت سے حرکتیں کیں اورؔ لالہ باہر کے دالان میں سوئے اور تمام رات اپنے کانوں سے بے حیائی کی
باتیں سنتے رہے بلکہ تختوں کی دراڑوں سے مشاہدہ بھی کرتے رہے۔ صبح وہ خبیث اچھی طرح لالہ کی ناک کاٹ کر کوٹھری سے باہر نکلا لالہ تو منتظر ہی تھے دیکھ کر اس کی طرف دوڑے اور بڑے
ادب سے اس پلید بدمعاش کو کہا۔ سردار صاحب رات کیا کیفیت گذری اس نے مسکرا کر مبارک باد دی اور اشاروں میں جتا دیا کہ حمل ٹھہر گیا لالہ دیوث سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تو
اسی دن سے آپ پر یقین ہوگیا تھا جبکہ میں نے بہاری لال کے گھر کی کیفیت سنی تھی اور پھر کہا وید حقیقت میں ودیا سے بھرا ہوا ہے کیا عمدہ تدبیر لکھی ہے جو خطا نہ گئی۔ مہر سنگھ نے کہا کہ
ہاں لالہ صاحب سب سچ ہے کیا وید کی آگیا کبھی خطا بھی جاتی ہے میں تو انہی باتوں کے خیال سے وید کو ست ودیاؤں کا پستک مانتا ہوں۔ اور دراصل مہرسنگھ ایک شہوت پرست آدمی تھا۔ اس کو کسی
وید شاستر اور شرتی شلوک کی پروا نہ تھی اور نہ اُن
* نوٹ۔ یہ قصہ جو ہم نے لکھا ہے فرضی نہیں مگر ہم نہیں چاہتے کہ کسی کی پردہ دری کریں اس لئے ہم نے ناموں کو کسی قدر بدلا کر لکھ
دیا ہے۔ منہ