کی اخلاقی حالتوں کے برعکس ہے جھکاتا ہے اور ناپسندیدہ اور بد راہوں پر چلانا چاہتا ہے۔ غرض بے اعتدالیوں اور بدیوں کی طرف جانا انسان کی ایک حالت ہے جو اخلاقی حالت سے پہلے اس پر طبعاً غالب ہوتی ہے۔ اور یہ حالت اس وقت تک طبعی حالت کہلاتی ہے جب تک کہ انسان عقل اور معرفت کے زیر سایہ نہیں چلتا۔ بلکہ چارپایوں کی طرح کھانے پینے، سونے جاگنے یا غصہ اور جوش دکھلانے وغیرہ امور میں طبعی جذبات کا پیرو رہتا ہے۔ اور جب انسان عقل اور معرفت کے مشورہ سے طبعی حالتوں میں تصرّف کرتا اور اعتدال مطلوب کی رعایت رکھتا ہے۔ اس وقت ان تینوں حالتوں کا نام طبعی حالتیں نہیں رہتا بلکہ اس وقت یہ حالتیں اخلاقی حالتیں کہلاتی ہیںؔ ۔ جیسا کہ آگے بھی کچھ ذکر اس کا آئے گا۔ (۲) نفس لوّ امہ اور اخلاقی حالتوں کے دوسرے سرچشمہ کا نام قرآن شریف میں نفس لوّ امہ ہے جیسا کہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ۱؂ یعنی میں اس نفس کی قسم کھاتا ہوں جو بدی کے کام اور ہر ایک بے اعتدالی پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے۔ یہ نفس لوّ امہ انسانی حالتوں کا دوسرا سرچشمہ ہے۔ جس سے اخلاقی حالتیں پیدا ہوتی ہیں اور اس مرتبہ پر انسان دوسرے حیوانات کی مشابہت سے نجات پاتا ہے۔ اور اس جگہ نفس لوّ امہ کی قسم کھانا اس کو عزت دینے کے لئے ہے گویا وہ نفس امّارہ سے نفس لوّ امہ بن کر بوجہ اس ترقی کے جناب الٰہی میں عزت پانے کے لائق ہوگیا۔ اور اس کا نام لوّ امہ اس لئے رکھا کہ وہ انسان کو بدی پر ملامت کرتا ہے اور اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ انسان اپنے طبعی لوازم میں ُ شتر بے مہار کی طرح چلے اور چارپایوں کی زندگی بسر کرے بلکہ یہ چاہتا ہے کہ اس سے اچھی حالتیں اور اچھے اخلاق صادر ہوں اور انسانی زندگی کے تمام لوازم میں کوئی بے اعتدالی ظہور میں نہ آوے اور