طبعی جذبات اور طبعی خواہشیں عقل کے مشورہ سے ظہور پذیر ہوں۔ پس چونکہ وہ بری حرکت پر ملامت کرتا ہے۔ اس لئے اس کا نام نفس لوّ امہ ہے یعنی بہت ملامت کرنے والا۔ اور نفسلوّ امہ اگرچہ طبعی جذبات پسند نہیں کرتا بلکہ اپنے تئیں ملامت کرتا رہتا ہے لیکن نیکیوں کے بجالانے پر پورے طور سے قادر بھی نہیں ہو سکتا اور کبھی نہ کبھی طبعی جذبات اس پر غلبہ کر جاتے ہیں۔ تب گر جاتا ہے اور ٹھوکر کھاتا ہے۔ گویا وہ ایک کمزور بچہ کی طرح ہوتا ہے۔ جو گرنا نہیں چاہتا ہے۔ مگر کمزوری کی وجہ سے گرتا ہے۔ پھر اپنی کمزوری پر نادم ہوتا ہے۔ غرض یہ نفس کی وہ اخلاقی حالت ہے۔ جب نفس اخلاقِ فاضلہ کو اپنے اندر جمع کرتا ہے اور سرکشی سے بیزار ہوتا ہے مگر پورے طور پر غالب نہیں آ سکتا۔ (۳) نفس مطمئنہ پھر ایک تیسرا سرچشمہ ہے جس کو روحانی حالتوں کا مبداء کہنا چاہئے۔ اس سرچشمہ کا نام قرآن شریف نے نفس مطمئنہ رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ۱؂ یعنی اے نفس آرام یافتہ جو خدا سے آرام پاگیا اپنے خدا کی طرف واپس چلا آ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر آجا۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس میں نفس تمام کمزوریوں سے نجات پاکر روحانی قوتوں سے بھر جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ سے ایسا پیوند کر لیتا ہے کہ بغیر اس کے جی بھی نہیں سکتا۔ اور جس طرح پانی اوپر سے نیچے کی طرف بہتا اور بسبب اپنی کثرت اور نیز روکوں کے دور ہونے سے بڑے زور سے چلتا ہے اسی طرح وہ خدا کی طرف بہتا چلا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتاؔ ہے کہ اے وہ نفس جو خدا سے آرام پا گیا اس کی طرف واپس چلا آ۔ پس وہ اسی زندگی میں نہ موت کے بعد ایک عظیم الشان تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اسی دنیا میں نہ دوسری جگہ ایک بہشت