وہی قبر ہے جس میں حضرت مسیح مجروح ہونے کی حالت میں داخل کئے گئے تھے پس اگر یہ وہی قبر ہے تو خود سوچ لیں کہ اسکے مقابل پر وہ عقیدہ کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں چڑھائے گئے بلکہ چھت کی راہ سے آسمان پر پہنچائے گئے۔ کس قدر لغو اور خلاف واقعہ عقیدہ ٹھہرے گا ۔لیکن یہ واقعہ جو حدیث کی رو سے ثابت ہوتا ہے یعنی یہ کہ ضرور حضرت عیسیٰ قبر میں داخل کئے گئے یہ اس قصہ کو جو مرہم حواریین کی نسبت ہم لکھ چکے ہیں نہایت قوت دیتا ہے کیونکہ اس سے اس بات کیلئے قرائن قویہ پیدا ہوتے ہیں کہ ضرور حضرت مسیح کو یہودیوں کے ہاتھ سے ایک جسمانی صدمہ پہنچا تھا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ صلیب پر مر گئے تھے کیونکہ توریت سے ثابت ہے کہ جو مصلوب ہو وہ *** ہے اور مصلوب وہی ہوتا ہے جو صلیب پر مرجاوے وجہ یہ کہ صلیب کی علت غائی قتل کرنا ہے سو ہرگز ممکن نہیں کہ وہ صلیب پر مرے ہوں کیونکہ ایک نبی مقرب اللہ *** نہیں ہو سکتا اور خود حضرت عیسیٰ نے آپ بھی فرما دیا کہ میں قبر میں ایسا ہی داخل ہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا تھا یہ ان کے کلام کا ماحصل ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ قبر میں زندہ داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا کیونکہ نبی کی مثال غیر مطابق نہیں ہو سکتی سو وہ بلاشبہ قبر میں زندہ ہی داخل کئے گئے اور یہ مکر اللہ تھا تا یہود ان کو مردہ سمجھ لیں اور اس طرح وہ ان کے ہاتھ سے نجات پاویں۔ یہ واقعہ غار ثور کے واقعہ سے بھی بالکل مشابہ ہے اور وہ غار بھی قبر کی طرح ہے جو اب تک موجود ہے اور غار میں توقف کرنا بھی تین دن ہی لکھا ہے جیسا کہ مسیح کے قبر میں رہنے کی مدت تین دن ہی بیان کی گئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے واقعہ ثور کی یہ مشابہت جو مسیح کی قبر سے ہے اس کا اشارہ بھی حدیثوں میں پایا جاتا ہے اسی طرح ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے لئے یونس نبی سے مشابہت سے ایک اشارہ کیا ہے۔ پس گویا یہ تین نبی یعنی محمدصلی اللہ علیہ و سلم اور مسیح اور یونس علیہ السلام قبر میں زندہ ہی داخل ہوئے اور زندہ ہی اس میں رہے اور زندہ ہی نکلے* اور خداتعالیٰ جانتا ہے کہ یہی بات صحیح ہے جو لوگ مرہم حواریین کے مضمون پر غور کریں گے وہ بالضرور اس نکتہ تک پہنچ جائیں گے کہ ضرور حضرت مسیح مجروح ہونے کی حالت میں قبر میں زندہ داخل کئے گئے تھے پلاطوس کی بیوی کی خواب بھی اسی کے موید ہے کیونکہ فرشتہ نے اسکی بیوی کو یہی بتلایا تھا کہ عیسیٰ اگر صلیب پر مرگیا تو اس پر اور اسکے خاوند پر تباہی آئے گی۔ مگرکوئی تباہی نہیں آئی۔ جس کا یہ نتیجہ ضروری ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔ منہ * نوٹ۔ یوسف علیہ السلام کا کنوئیں میں سے زندہ نکلنا بھی اسی سے مشابہ ہے۔ منہ