حاشیہ در حاشیہ متعلقہ حاشیہ صفحہ ۱۶۴ ہمارے متعصب مولوی ابتک یہی سمجھے بیٹھے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام معہ جسم عنصری آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور دوسرے نبیوں کی تو فقط روحیں آسمان پر ہیں مگر حضرت عیسیٰ جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر چڑھائے بھی نہیں گئے بلکہ کوئی اور شخص صلیب پر چڑھایا گیا لیکن ان بیہودہ خیالات کے رد میں علاوہ ان ثبوتوں کے جو ہم ازالہ اوہام اور حمامتہ البشریٰ وغیرہ کتابوں میں دے چکے ہیں ایک اور قوی ثبوت یہ ہے کہ صحیح بخاری صفحہ ۳۳۹ میں یہ حدیث موجود ہے لعنۃ اللہ علی الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجد۔ یعنی یہود اور نصاریٰ پر خدا کی *** ہو جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا یعنی ان کو سجدہ گاہ مقرر کر دیا اور ان کی پرستش شروع کی۔ اب ظاہر ہے کہ نصار ٰی بنی اسرائیل کے دوسرے نبیوں کی قبروں کی ہرگز پرستش نہیں کرتے بلکہ تمام انبیاء کو گنہگار اور مرتکب صغائر و کبائر خیال کرتے ہیں۔ ہاں بلاد شام میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزارہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں سو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ قبرحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی قبر ہے جس میں مجروح ہونے کی حالت میں وہ رکھے گئے تھے اور اگر اس قبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سے کچھ تعلق نہیں تو پھر نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول صادق نہیں ٹھہرے گا اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسی مصنوعی قبر کو قبر نبی قرار دیں جو محض جعلسازی کے طور پر بنائی گئی ہو ۔کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی شان سے بعید ہے کہ جھوٹ کو واقعات صحیحہ کے محل پر استعمال کریں پس اگر حدیث میں نصاریٰ کی قبر پرستی کے ذکر میں اس قبر کی طرف اشارہ نہیں تو اب واجب ہے کہ شیخ بطالوی اور دوسرے مخالف مولوی کسی اور ایسے نبی کی قبر کا ہمیں نشان دیں جس کی عیسائی پرستش کرتے ہوں یا کبھی کسی زمانہ میں کی ہے۔ نبوت کا قول باطل نہیں ہو سکتا چاہئے کہ اس کو سرسری طور پر نہ ٹال دیں اور ردی چیز کی طرح نہ پھینک دیں کہ یہ سخت بے ایمانی ہے بلکہ دو باتوں سے ایک بات اختیار کریں۔ (۱) یا تو اس قبر کا ہمیں پتا دیویں جو کسی اور نبی کی کوئی قبر ہے اور اس کی عیسائی پرستش کرتے ہیں۔ (۲) اور یا اس بات کو قبول کریں کہ بلاد شام میں جو حضرت عیسیٰ کی قبر ہے جس کی نسبت سلطنت انگریزی کی طرف سے پچھلے دنوں میں خریداری کی بھی تجویز ہوئی تھی جس پر ہر سال بہت سا ہجوم عیسائیوں کا ہوتا ہے اور سجدے کئے جاتے ہیں وہ درحقیقت