وجود میں سے کاٹ دیا اور بعد طلاق اور تیاگ کے فلاں شخص کے نکاح میں وہ آگئی لیکن ایک آریہ کے لئے یہ اقرار مرنے سے
کچھ کم نہیں کہ آج ہم نے اولاد کے لئے اپنی فلاں پاکدامن اور منکوحہ عورت کو فلاں شخص سے ہم بستر کیا ہے پس نیوگ میں اور طلاق میں یہ فرق ہے کہ نیوگ میں تو ایک بے غیرت انسان اپنی
پاکدامن اور بے لوث اور منکوحہ عورت کو دوسرے سے ہم بستر کرا کر دیوث کہلاتا ہے اور طلاق کی ضرورت کے وقت ایک باغیرت مرد ایک ناپاک طبع عورت سے قطع تعلق کر کے دیوثی کے الزام
سے اپنے تئیں بری کر لیتا ہے۔
بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ نیوگ کی رسم ایسی نہیں ہے کہ جو پہلے تھی اور اب ترک کی گئی ہے بلکہ برابر آریوں میں پوشیدہ طور پر ہو رہی ہے * اور ضرورتوں
کے وقت ہریک ادنیٰ اعلیٰ اس رسم کا پابندؔ معلوم ہوتا ہے ابھی ہم نے ایک بڑے نامی رئیس کا حال سنا ہے جو اس نے اپنی پیاری اور جوان بیوی سے اولاد کی خواہش سے نیوگ کرایا ہے اسی طرح
ہریک طرف سے یہ خبریں پہنچ رہی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ اب وید کی اس تعلیم پر پورے پورے طور پر کاربند ہونا چاہتے ہیں مگر چونکہ انسانی کانشنس اس گندہ کام کو قبول نہیں کرتا اس لئے
پوشیدہ طور پر یہ کارروائیاں شروع ہوگئی ہیں عجیب باتیں سنی جاتی ہیں*
+ نوٹ۔ جس حالت میں نیوگ وید کا حکم ہے اور بقول آریہ پنڈتوں کے وید کے احکام قابل منسوخی نہیں تو پھر رسم نیوگ
ترک کیونکر ہو سکتی ہے کیا کسی زمانہ میں وید منسوخ ہو سکتا ہے۔ منہ
یہ ایک دھوکہ کی بات ہے کہ نیوگ کرانے کے وقت ہمیشہ مرد پر ہی الزام دیا جاتا ہے کہ وہ ناقابل اولاد ہے اور اسی خیال
سے عورت کو دوسرے سے ہم بستر کراتے ہیں۔ گو کبھی کبھی یہ بھی ممکن ہو کہ مرد بانجھ کی طرح ہو یا اس کی منی میں کیڑے نہ ہوں یا اس کی منی پتلی ہو یا چربی سے منافذ بند ہوگئے ہوں۔ اور اس
وجہ سے اولاد نہ ہو سکے مگر طبّی تحقیقات سے یہ زیادہ تر ثابت ہے کہ اولاد نہ ہونے کی حالت میں اکثر عورتوں کے ہی رحم وغیرہ میں قصور ہوتا ہے اس لئے ہم آریوں کو نیک صلاح دیتے ہیں کہ
جھٹ پٹ اپنی عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر نہ کرا دیا کریں پہلے ڈاکٹر کو بلا کر عورت کے رحم اور دوسری اندرونی بناوٹ کا حال بذریعہ آلات دریافت کرالیں ایسا نہ ہو کہ دراصل عورت کا ہی
قصور ہو اور پھر وہ ناحق ساری عمر بدکاری کراتی رہے اور آخر بوجہ عقیمہ ہونے کے ناکام رہے اور کوئی بچہ نہ ہو یہ صلاح نیک ہے ضرور اس پر عمل کریں اگر وید نے نہیں بیان کیا تو اس کی
غلطی ہے۔
مرد باید کہ گیرد اندر گوش درنبشتست پند بر دیوار ۱ منہ