اگرؔ یہ سوال پیش ہو کہ ممکن ہے کہ چوٹوں کے اچھا ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ آسمان پر چڑھائے گئے ہوں تو اس کا جواب یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو آسمان پر چڑھانا ان کا منظور ہوتا تو زمین پر ان کیلئے مرہم طیار نہ ہوتی آسمان پر لیجانے والا فرشتہ انکے زخم بھی اچھے کر دیتا اور انجیل میں دیکھنے والوں کی شہادت رویت صرف اس قدر ہے کہ ان کو سڑک پر جاتے دیکھا اور تحقیقات سے ان کی قبر کشمیر میں ثابت ہوتی ہے اور اگر کوئی خوش فہم مولوی یہ کہے کہ قرآن میں ان کی رفع کا ذکر ہے تو اسکے جواب میں یہ التماس ہے کہ قرآن میں رفع الی اللہ کا ذکر ہے نہ رفع الی السّماء کا پھر جبکہ اللہ جلّ شانہٗ نے یہ فرمایا ہے کہ۱؂ تو اس سے قطعی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ رفع موت کے بعد ہے کیونکہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا سو اس میں کیا کلام ہے کہ خدا کے نیک بندے وفات کے بعد خدا کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔ سو وفات کے بعد نیک بندوں کا رفع ہونا سنت اللہ میں داخل ہے مگر وفات کے بعد جسم کا اٹھایا جانا سنت اللہ میں داخل نہیں اور یہ کہنا کہ توفی کے معنی اس جگہ سونا ہے سراسر الحاد ہے کیونکہ صحیح بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ متوفیک ممیتک اور اس کی تائید میں صاحب بخاری اسی محل میں ایک حدیث بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے لایا ہے پس جو معنی توفی کے ابن عباس اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مقام متنازعہ فیہ میں ثابت ہوچکے اسکے برخلاف کوئی اور معنی کرنا یہی ملحدانہ طریق ہے مسلمان کیلئے اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت نہیں کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مقام متنازعہ فیہ میں یہی معنی کئے پس بڑی بے ایمانی ہے جو نبی کریم کے معنوں کو ترک کر دیا جائے اور جبکہ اس جگہ توفی کے معنی قطعی طور پر وفات دینا ہی ہوا تو پھر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وفات آئندہ کے زمانہ میں ہوگی کیونکہ آیت۲؂ صاف صاف بتلا رہی ہے کہ وفات ہو چکی وجہ یہ کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ جناب الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ عیسائی میری وفات کے بعد بگڑے ہیں پھر اگر فرض کرلیں کہ اب تک حضرت عیسیٰ فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ ابتک عیسائی بھی نہیں بگڑے حالانکہ ان کم بختوں نے عاجز انسان کو خدا بنا دیا اور نہ صرف شرک کی نجاست کھائی بلکہ سوء ر کھانا شراب پینا زنا کرنا سب انہی لوگوں کے حصہ میں آگیا کیا کوئی دنیا میں بدی ہے جو ان میں پائی نہیں جاتی کیا کوئی ایسا بدکاری کا کام ہے جس میں یہ لوگ نمبر اول پر نہیں۔ پس صاف ظاہر ہے کچھ یہ لوگ بگڑ گئے اور شرک اور ناپاکیوں کا جذام ان کو کھا گیا۔ اور اسلام کی عداوت نے ان کو تحت الثریٰ میں پہنچا دیا اور نہ صرف آپ ہی ہلاک ہوئے بلکہ انکی ناپاک زندگی نے ہزاروں کو ہلاک کیا یورپ میں کتوں اور کتیوں کی طرح زناکاری ہو رہی ہے شراب کی کثرت شہوتوں کو ایک خطرناک جوش دے رہی ہے اور ّ*** بچے لاکھوں تک پہنچ گئے ہیں یہ کس بات کا نتیجہ ہے اسی مخلوق پرستی اور کفارہ کے ُ پرفریب مسئلہ کا۔ منہ