توؔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ یہ چوٹیں نبوت کے بعد لگی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس ملک میں نبوت کا
زمانہ صرف تین برس بلکہ اس سے بھی کم ہے پس اگر اس مختصر زمانہ میں بجز صلیب کی چوٹوں کے کسی اور حادثہ سے بھی یسوع کو چوٹیں لگی تھیں اور ان چوٹوں کے لئے یہ مرہم طیار ہوئی
تھی تو اس دعویٰ کا بار ثبوت عیسائیوں کی گردن پر ہے جو حضرت عیسیٰ کو جسم سمیت آسمان پر چڑھا رہے ہیں یہ مرہم حواریّین متواترات میں سے ہے اور متواترات علوم حسیہ بدیہہ کی طرح
ہوتے ہیں جن سے انکار کرنا حماقت ہے
بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ کیا گیا اس لئے اس کا نام یوسف ہوا ایسا ہی مریم کا نام بھی ایک واقعہ پر دلالت کرتا ہے اور وہ یہ کہ جب مریم کا لڑکا عیسیٰ پیدا ہوا
تو وہ اپنے اہل و عیال سے دور تھی اور مریم وطن سے دور ہونے کو کہتے ہیں اسی کی طرف اللہ جلّ شانہٗ اشارہ فرما کر کہتا ہے ۱ یعنی مریم کو کتاب میں یاد کر جبکہ وہ اپنے اہل سے ایک شرقی
مکان میں دور پڑی ہوئی تھی سو خدا نے مریم کے لفظ کی وجہ تسمیہ یہ قرار دی کہ مریم حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے کے وقت اپنے لوگوں سے دور و مہجور تھی یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ
اس کا لڑکا عیسیٰ قوم سے قطع کیا جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیاگیا ہے کشمیر میں جاکر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر
موجود ہے یُزَارُ وَ یُتَبَرَّکُ بِہٖ ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلاد شام میں قبر ہے مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کیلئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر
وہی ہے جو کشمیر میں ہے اور ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا جس سے وہ نکل آئے اور جب تک وہ کشمیر میں زندہ رہے ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر مقام کیا گویا آسمان پر چڑھ گئے۔
حضرت مولوی نور دین صاحب فرماتے ہیں کہ یسوع صاحب کی قبر جو یوز آسف کی قبر کر کے مشہور ہے وہ جامع مسجد سے آتے ہوئے بائیں طرف واقع ہوتی ہے جب ہم جامع مسجد سے اس مکان
میں جائیں جہاں شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ کے تبرکات ہیں تو یہ قبر تھوڑی شمال کی جانب عین کوچہ میں ملے گی اس کوچہ کا نام خانیار ہے اور یہ اصل قدیم شہر سے قریباً تین میل کے فاصلہ پر
ہے جیسا کہ ڈاکٹر برنیر نے لکھا ہے پس اس بات کو بھی خیانت پیشہ عیسائیوں کی طرح ہنسی میں نہیں اڑانا چاہئے کہ حال میں ایک انجیل تبت سے دفن کی ہوئی نکلی ہے جیسا کہ وہ شائع بھی ہو چکی
ہے بلکہ حضرت مسیح کے کشمیر میں آنے کا یہ ایک دوسرا قرینہ ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ اس انجیل کا لکھنے والا بھی بعض واقعات کے لکھنے میں غلطی کرتا ہو جیسا کہ پہلی چار انجیلیں بھی
غلطیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ مگر ہمیں اس نادر اور عجیب ثبوت سے بکلی ُ منہ نہیں پھیرنا چاہئے جو بہت سی غلطیوں کو صاف کر کے دنیا کو صحیح سوانح کا چہرہ دکھلاتا ہے۔
واللہ اعلم
بالصواب۔ منہ