ایکؔ اور قرینہ یہ ہے کہ اس مرہم کو مرہم رسل بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ حواری حضرت عیسیٰ کے رسول تھے۔ اور اگر یہ
گمان ہو کہ ممکن ہے کہ یہ چوٹیں حضرت مسیح کو نبوت کے بعد کسی اور حادثہ سے لگ گئی ہوں اور صلیب پر مر گئے ہوں جیسا کہ نصاریٰ کا زعم ہے
بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ قوم بنی اسرائیل بھی
اس جگہ موجود تھی تو حضرت مسیح اس ملک کے چھوڑنے کے بعد ضرور کشمیر میں آئے ہوں گے مگر جاہلوں نے دور دراز زمانہ کے واقعہ کو یاد نہ رکھا اور بجائے عیسیٰ کے موسیٰ یا سلیمان یاد
رہ گیا۔ اخویم حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ میں قریباً چودہ۱۴ برس تک جموں اور کشمیر کی ریاست میں نوکر رہا ہوں اور اکثر کشمیر میں ہر ایک عجیب مکان وغیرہ کے دیکھنے
کا موقعہ ملتا تھا لہٰذا اس مدت دراز کے تجربہ کے رو سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر برنیر صاحب نے اس بات کے بیان کرنے میں کہ اہل کشمیر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ کشمیر میں موسیٰ کی قبر
ہے غلطی کی ہے جو لوگ کچھ مدت کشمیر میں رہے ہیں وہ اس بات سے بے خبر نہیں ہوں گے کہ کشمیر میں موسیٰ نبی کے نام سے کوئی قبر مشہور نہیں ڈاکٹر صاحب کو بوجہ اجنبیت زبان کے ٹھیک
ٹھیک نام کے لکھنے میں غلطی ہوگئی ہے یا ممکن ہے کہ سہو کاتب سے یہ غلطی ظہور میں آئی ہو اصل بات یہ ہے کہ کشمیر میں ایک مشہور و معروف قبر ہے جس کو یوز آسف نبی کی قبر کہتے ہیں
اس نام پر ایک سرسری نظر کر کے ہر ایک شخص کا ذہن ضرور اس طرف منتقل ہوگا کہ یہ قبر کسی اسرائیلی نبی کی ہے کیونکہ یہ لفظ عبرانی زبان سے مشابہ ہیں مگر ایک عمیق نظر کے بعد نہایت
تسلی بخش طریق کے ساتھ کھل جائے گا کہ دراصل یہ لفظ یسوع آسف ہے یعنی یسوع غمگین۔ اسف اندوہ اور غم کو کہتے ہیں چونکہ حضرت مسیح نہایت غمگین ہوکر اپنے وطن سے نکلے تھے اس
لئے اپنے نام کے ساتھ آسف ملالیا مگر بعض کا بیان ہے کہ دراصل یہ لفظ یسوع صاحب ہے پھر اجنبی زبان میں بکثرت مستعمل ہوکر یوز آسف بن گیا۔ لیکن میرے نزدیک یسوع آسف اسم بامسمّٰی ہے اور
ایسے نام جو واقعات پر دلالت کریں اکثر عبرانی نبیوں اور دوسرے اسرائیلی راست بازوں میں پائی جاتی ہیں چنانچہ یوسف جو حضرت یعقوب کا بیٹا تھا اس کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ اس کی
جدائی پر اندوہ اور غم کیا گیا جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ نے اس بات کی طرف اشارہ فرما کر کہا ہے ۔ ۱ پس اس سے صاف نکلتا ہے کہ یوسف پر اسف یعنی اندوہ