حضرؔ ت مسیح کے جسم عنصری کا آسمان پر جانا سب جھوٹے قصے اور بیہودہ کہانیاں ہیں اور بلاشبہ اب تمام شکوک و شبہات کے زخم اس مرہم سے مندمل ہوگئے ہیں۔ عیسائیوں اور نیم عیسائیوں کو معلوم ہو کہ یہ مرہم معہ اس کے وجہ تسمیہ کے طب کی ہزار ہا کتابوں میں موجود ہے اور اس مرہم کا ذکر کرنے والے نہ صرف مسلمان طبیب ہیں بلکہ مسلمان۔ مجوسی۔ عیسائی سب اس میں شامل ہیں۔ اگر چاہیں تو ہم ہزار کتاب سے زیادہ اس کا حوالہ دے سکتے ہیں اور کئی کتابیں حضرت مسیح کے زمانہ کے قریب قریب کی ہیں اور سب اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت مسیح کے لئے یعنی ان کے زخموں کے لئے تیار کی تھی دراصل یہ نسخہ عیسائیوں کی پرانی قرابادینوں میں تھا جو یونانی میں تالیف ہوئی تھیں پھر ہارون اور مامون کے وقت میں وہ کتابیں عربی میں ترجمہ ہوئیں اور یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان ہے کہ یہ کتابیں باوجود امتداد زمانہ کے تلف نہیں ہو سکیں یہاں تک کہ خدا ئے تعالیٰ کے فضل نے ہمیں ان پر مطلع کیا۔ اب ایسے یقینی واقعہ سے انکار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی ہے۔ ہمیں امید نہیں کہ کوئی عقلمند عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے اس سے انکار کرے کیونکہ اعلیٰ درجہ کے تواتر کا انکار کرنا حماقت بلکہ دیوانہ پن ہے۔ اور وہ کتابیں جن میں یہ مرہم مذکور ہے درحقیقت ہزار ہا ہیں جن میں سے ڈاکٹر حنین کی بھی ایک کتاب ہے جو ایک پورانا عیسائی طبیب ہے ایسا ہی اور بہت سے عیسائیوں اور مجوسیوں کی کتابیں ہیں جو ان پورانی یونانی اور رومی کتابوں سے ترجمہ ہوئی ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عہد کے قریب ہی تالیف ہوئی تھیں اور یہ خوب یاد رکھنا چاہئے کہ اسلامی طبیبوں نے یہ نسخہ عیسائی کتابوں سے ہی نقل کیا ہے مگر چونکہ ہر ایک کو وہ سب کتابیں میسّر نہیں ہو سکتیں لہٰذا ہم چند ایسی کتابوں کا حوالہ ذیل میں لکھتے ہیں جو بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ کی پورانی قوم کیسی معلوم ہوتی تھیں میری بات کو آپ محض خیالی ہی تصور نہ فرمائیے گا ان دیہاتوں کے یہودی نما ہونے کی نسبت ہمارے پادری صاحبان اور اور بہت سے فرنگستانیوں نے بھی میرے کشمیر جانے سے بہت عرصہ پہلے ایسا ہی لکھا ہے۔ دوسری علامت یہ ہے کہ اس شہر کے باشندے باوجودیکہ تمام مسلمان ہیں مگر پھر بھی ان میں سے اکثر کا نام موسیٰ ہے۔ تیسرے یہاں یہ عام روایت ہے کہ حضرت سلیمان اس ملک میں آئے تھے۔ چوتھے یہاں کے لوگوں کا یہ بھی گمان ہے کہ حضرت موسیٰ نے شہر کشمیر ہی میں وفات پائی تھی اور ان کا مزار شہر سے قریب تین میل کے ہے۔ پانچویں عموماً یہاں سب لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ایک اونچے پہاڑ پر جو ایک مختصر اور نہایت پورانا مکان نظر آتا ہے اس کو حضرت سلیمان نے تعمیر کرایا تھا اور اسی سبب سے اس کو آج تک تخت سلیمان کہتے ہیں۔ سو میں اس بات سے انکار کرنا نہیں چاہتا کہ یہودی لوگ کشمیر میں