نےؔ خود اپنے اس قصہ کی مثال یونس کے قصہ سے دی اور ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا پس اگر مسیح مر گیا تھا تو یہ مثال صحیح نہیں ہو سکتی بلکہ ایسی مثال دینے والا ایک سادہ لوح آدمی ٹھہرتا ہے جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ مشبّہ اور مشبّہ بہٖ میں مشابہت تامہ ضروری ہے۔ غرض اس مرہم کی تعریف میں اس قدر لکھنا کافی ہے کہ مسیح تو بیماروں کو اچھا کرتا تھا مگر اس مرہم نے مسیح کو اچھا کیا انجیلوں سے یہ پتہ بھی بخوبی ملتا ہے کہ انہیں زخموں کی وجہ سے حضرت مسیح پلاطوس کی بستی میں چالیس۴۰ دن تک برابر ٹھہرے اور پوشیدہ طور پر یہی مرہم ان کے زخموں پر لگتی رہی آخر اللہ تعالیٰ نے اسی سے ان کو شفا بخشی اس مدت میں زیرک طبع حواریوں نے یہی مصلحت دیکھی کہ جاہل یہودیوں کو تلاشی اور جستجو سے باز رکھنے کے لئے اور نیز ان کا ُ پر کینہ جوش فرو کرنے کی غرض سے پلاطوس کی بستیوں میں یہ مشہور کر دیں کہ یسوع مسیح آسمان پر معہ جسم اٹھایا گیا اور فی الواقعہ انہوں نے یہ بڑی دانائی کی کہ یہودیوں کے خیالات کو اور طرف لگا دیا اور اس طرف پہلے سے یہ انتظام ہو چکا تھا اور بات پختہ ہو چکی تھی کہ فلاں تاریخ پلاطوس کی عملداری سے یسوع مسیح باہر نکل جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حواری ان کو کچھ دور تک سڑک پر چھوڑ آئے اور حدیث صحیح سے جو طبرانی میں ہے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس واقعہ کے بعد ستاسی۸۷ برس زندہ رہے اور ان برسوں میں انہوں نے بہت سے ملکوں کی سیاحت کی اسی لئے ان کا نام مسیح ہوا۔ اور کچھ تعجب نہیں کہ وہ اس سیاحت کے زمانہ میں تبت میں بھی آئے ہوں جیسا کہ آجکل بعض انگریزوں کی تحریروں سے سمجھا جاتا ہے ڈاکٹر برنیئر اور بعض دوسرے یوروپین عالموں کی یہ رائے ہے کہ کچھ تعجب نہیں کہ کشمیر کے مسلمان باشندہ دراصل یہود ہوں پس یہ رائے بھی کچھ بعید نہیں کہ حضرت مسیح انہیں لوگوں کی طرف آئے ہوں اور پھر تبت کی طرف رخ کرلیا ہو اور کیا تعجب کہ حضرت مسیح کی قبر کشمیر*یا اس کے نواح میں ہو۔ یہودیوں کے ملکوں سے ان کا نکلنا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبوت ان کے خاندان سے خارج ہوگئی۔ جو لوگ اپنی قوت عقلیہ سے کام لینا نہیں چاہتے ان کا منہ بند کرنا مشکل ہے مگر مرہم حواریّین نے اس بات کا صفائی سے فیصلہ کر دیا کہ * حاشیہ در حاشیہ۔ ڈاکٹر برنیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’کشمیر میں یہودیت کی بہت سی علامتیں پائی جاتی ہیں چنانچہ پیر پنجال سے گذر کر جب میں اس ملک میں داخل ہوا تو دیہات کے باشندوں کی صورتیں یہود کی سی دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ان کی صورتیں اور ان کے طور طریق اور وہ ناقابل بیان خصوصیتیں جن سے ایک سیاح مختلف اقوام کے لوگوں کی خودبخود شناخت اور تمیز کر سکتاہے۔ سب یہودیوں