حاشیہؔ متعلقہ صفحہ ۱۶۴ مرہم حواریّین جس کا دوسرا نام مرہم عیسیٰ بھی ہے یہ مرہم نہایت مبارک مرہم ہے جو زخموں اور جراحتوں اور نیز زخموں کے نشان معدوم کرنے کے لئے نہایت نافع ہے۔ طبیبوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسیٰ کے لئے تیار کی تھی یعنی جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود علیہم اللعنت کے پنجہ میں گرفتار ہوگئے اور یہودیوں نے چاہا کہ حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچ کر قتل کریں تو انہوں نے گرفتار کر کے صلیب پر کھینچنے کی کارروائی شروع کی مگر خدا تعالیٰ نے یہود کے بد ارادہ سے حضرت عیسیٰ کو بچا لیا۔ کچھ خفیف سے زخم بدن پر لگ گئے* سو وہ اس عجیب و غریب مرہم کے چند روز استعمال کرنے سے بالکل دور ہوگئے یہاں تک کہ نشان بھی جو دوبارہ گرفتاری کیلئے کھلی کھلی علامتیں تھیں بالکل مٹ گئے۔ یہ بات انجیلوں سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب حضرت مسیح نے صلیب سے نجات پائی کہ جو درحقیقت دوبارہ زندگی کے حکم میں تھی تو وہ اپنے حواریوں کو ملے اور اپنے زندہ سلامت ہونے کی خبر دی۔ حواریوں نے تعجب سے دیکھا کہ صلیب پر سے کیونکر بچ گئے اور گمان کیا کہ شاید ہمارے سامنے ان کی روح متمثل ہوگئی ہے تو انہوں نے اپنے زخم دکھلائے جو صلیب پر باندھنے کے وقت پڑ گئے تھے تب حواریوں کو یقین آیا کہ خدا تعالیٰ نے یہودیوں کے ہاتھ سے ان کو نجات دی۔ حال کے عیسائیوں کی یہ نہایت سادہ لوحی ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ یسوع مسیح مرکر نئے سرے زندہ ہوا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ خدا جو محض قدرت سے اس کو زندہ کرتا۔ اس کے زخموں کو بھی اچھا کر دیتا۔ بالخصوص جبکہ کہا جاتا ہے کہ دوسرا جسم جلالی ہے جو آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی داہنی طرف جابیٹھا۔ تو کیا قبول کر سکتے ہیں کہ جلالی جسم پر بھی یہ زخموں کا کلنک باقی رہا اور مسیح *حاشیہ۔ قرآن شریف میں جو وارد ہے ۱؂ یعنی عیسیٰ نہ مصلوب ہوا نہ مقتول ہوا۔ اس بیان سے یہ بات منافی نہیں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر زخمی ہوگئے۔ کیونکہ مصلوبیت سے مراد وہ امر ہے جو صلیب پر چڑھانے کی علت غائی ہے اور وہ قتل ہے اور کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ نے دشمنوں کے اس اصل مقصود سے ان کو محفوظ رکھا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت فرمایا ہے ۲؂ یعنی خدا تجھ کو لوگوں سے بچائے گا حالانکہ لوگوں نے طرح طرح کے دکھ دئیے وطن سے نکالا۔ دانت شہید کیا انگلی کو زخمی کیا اور کئی زخم تلوار کے پیشانی پر لگائے ۔سو درحقیقت اس پیشگوئی میں بھی اعتراض کا محل نہیں کیونکہ کفار کے حملوں کی علت غائی اور اصل مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا زخمی کرنا یا دانت کا شہید کرنا نہ تھا بلکہ قتل کرنا مقصود بالذات تھا سو کفار کے اصل ارادے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا نے محفوظ رکھا اسی طرح جن لوگوں نے حضرت مسیح کو سولی پر چڑھایا تھا۔ ان کی اس کارروائی کی علت غائی حضرت مسیح کا زخمی ہونا نہ تھا بلکہ ان کا اصل ارادہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی کے ذریعہ سے قتل کر دینا تھا سو خدا نے ان کو اس بد ارادہ سے محفوظ رکھا اور کچھ شک نہیں کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے پس قول ماصلبوہ ان پر صادق آیا۔ منہ