قیوم ؔ کیونکر ہو۔ رہا آسمان سو وہ آسمانوں کا بھی قیوم نہیں کیونکہ اس کا جسم تو صرف چھ سات بالشت کے قریب ہوگا پھر وہ سارے آسمانوں پر کیونکر موجود ہو سکتا ہے تا ان کا قیوم ہو لیکن ہم لوگ جو خدا تعالیٰ کو رب العرش کہتے ہیں تو اس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ جسمانی اور جسم ہے اور عرش کا محتاج ہے بلکہ عرش سے مراد وہ مقدس بلندی کی جگہ ہے جو اس جہان اور آنے والے جہان سے برابر نسبت رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ کو عرش پر کہنا درحقیقت ان معنوں سے مترادف ہے کہ وہ مالک الکونین ہے اور جیسا کہ ایک شخص اونچی جگہ بیٹھ کر یا کسی نہایت اونچے محل پر چڑھ کر یمین و یسار نظر رکھتا ہے۔ ایسا ہی استعارہ کے طور پر خدا تعالیٰ بلند سے بلند تخت پر تسلیم کیا گیا ہے جس کی نظر سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ اس عالم کی اور نہ اس دوسرے عالم کی ہاں اس مقام کو عام سمجھوں کے لئے اوپر کی طرف بیان کیا جاتا ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ حقیقت میں سب سے اوپر ہے اور ہریک چیز اس کے پیروں پر گری ہوئی ہے تو اوپر کی طرف سے اس کی ذات کو مناسبت ہے مگر اوپر کی طرف وہی ہے جس کے نیچے دونوں عالم واقع ہیں اور وہ ایک انتہائی نقطہ کی طرح ہے جس کے نیچے سے دو عظیم الشان عالم کی دو شاخیں نکلتی ہیں اور ہریک شاخ ہزار ہا عالم پر مشتمل ہے جن کا علم بجز اس ذات کے کسی کو نہیں جو اس نقطہ انتہائی پر مستوی ہے جس کا نام عرش ہے اس لئے ظاہری طور پر وہ اعلیٰ سے اعلیٰ بلندی جو اوپر کی سمت میں اس انتہائی نقطہ میں متصور ہو۔ جو دونوں عالم کے اوپر ہے وہی عرش کے نام سے عندالشرع موسوم ہے اور یہ بلندی باعتبار جامعیت ذاتی باری کی ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ مبدء ہے ہریک فیض کا اور مرجع ہے ہریک چیز کا اور مسجود ہے ہریک مخلوق کا اور سب سے اونچا ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور کمالات میں ورنہ قرآن فرماتا ہے کہ وہ ہریک جگہ ہے جیسا کہ فرمایا ۱؂ جدھر منہ پھیرو ادھر ہی خدا کا منہ ہے اور فرماتا ہے ۲؂ یعنی جہاں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور فرماتا ہے ۳؂ یعنی ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہیں یہ تینوں تعلیموں کا نمونہ ہے۔ والسّلام علی من اتبع الھُدٰی تمّت